بارسلونا کے ویج دی ہیبرون اسپتال میں ناقابلِ آپریشن رسولی نکالنے کی نئی تکنیک

Screenshot

Screenshot

بارسلونا کے Vall d’Hebron University Hospital نے صفرا کی نالی (بائل ڈکٹ) میں موجود ایک رسولی کے مریض پر جگر کی پیوندکاری جیسی جدید تکنیک استعمال کرتے ہوئے ایک اہم اور انقلابی آپریشن انجام دیا ہے۔

اس طریقۂ کار میں جگر کو زندہ رکھا جاتا ہے جبکہ اس کی خون کی گردش کو عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے۔ اگر یہ طریقہ استعمال نہ کیا جاتا تو ہینڈ بال کے سائز کی یہ رسولی، جو اہم خون کی نالیوں کے گرد لپٹی ہوئی تھی، ناقابلِ آپریشن سمجھی جاتی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کاتالونیا میں کینسر کے علاج کے لیے یہ تکنیک استعمال کی گئی ہے، جس سے ان مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے جنہیں پہلے صرف علامتی (palliative) علاج ہی دیا جا سکتا تھا۔

مریضہ ایک 58 سالہ خاتون تھیں جنہیں کولانجیوکارسینوما (صفرا کی نالی کا نایاب کینسر) لاحق تھا۔عام سرجری ممکن نہیں تھی کیونکہ مریضہ کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے کم از کم ایک اہم خون کی نالی کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔

اس آپریشن کی قیادت جنرل اور ڈائجیسٹو سرجری کے سربراہ ڈاکٹر گونزالو ساپیسوچن نے کی۔

یہ آپریشن تقریباً 10 گھنٹے جاری رہا اور اس میں 15 افراد پر مشتمل ٹیم شامل تھی، جن میں سرجن، اینستھیزیا کے ماہرین اور نرسیں شامل تھیں۔

اس سرجری میں HOPE (Hypothermic Oxygenated Perfusion) نامی جدید مشین استعمال کی گئی، جو عام طور پر جگر کی پیوندکاری کے دوران عضو کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اس کیس میں جگر کو جسم سے نکالا نہیں گیا بلکہ مشین کو براہ راست مریض کے جگر سے جوڑا گیا۔جگر کو آکسیجن سے بھرپور محلول فراہم کیا گیا۔خون کی فراہمی کو عارضی طور پر روک دیا گیا

تقریباً 60 منٹ تک جگر کو 4 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر ایک محفوظ حالت میں رکھا گیا۔

اس دوران سرجنوں نے رسولی کو محفوظ طریقے سے نکالا اور بعد میں جگر کو دوبارہ خون کی گردش سے جوڑ دیا۔

اس تکنیک کے فوائد میں شامل ہیں:

  • سوزش میں کمی
  • پیچیدگیوں کا کم خطرہ
  • خون بہنے میں کمی
  • جگر کی کارکردگی کا تحفظ
  • مریض کی جلد صحت یابی

آپریشن سے پہلے مریضہ کو کیموتھراپی اور نئی امیونوتھراپی دوا “Durvalumab” دی گئی، جس سے رسولی کا سائز کم ہوا اور آپریشن ممکن ہو سکا۔

یہ آپریشن نومبر میں کیا گیا، مریضہ کرسمس پر گھر واپس چلی گئیں، اور جنوری تک دوبارہ اپنے کام اور جم کی سرگرمیوں میں شامل ہو گئیں۔

Vall d’Hebron Institute of Oncology اب اس طریقۂ علاج پر مزید تحقیق کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ تکنیک مستقبل میں ان مریضوں کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جن کی رسولیاں بڑی ہوں یا جن کا آپریشن پہلے ممکن نہ سمجھا جاتا ہو۔

یہ تحقیق سب سے پہلے کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں شروع کی گئی تھی اور اب بارسلونا میں بھی اس کا آغاز ہو چکا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے