معذوری: اقوام متحدہ کا سیاسی برابری کا مطالبہ، نشستوں کے کوٹے اور رسائی کے قوانین پر زور
میڈرڈ/ اقوام متحدہ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ معذور افراد کی سیاسی زندگی میں مساوی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جن میں معذور افراد کے لیے پارلیمان میں مخصوص نشستیں مختص کرنا، لازمی رسائی کے قوانین نافذ کرنا، معاشرتی تعصب اور امتیازی رویوں کا خاتمہ کرنا، اور سیاسی تعلیم و قیادت کے مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔
یہ بات اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے حقوقِ معذوراں، ہیبا ہگراس، کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ “سیاسی اور عوامی زندگی میں معذور افراد کی مساوی شرکت” میں کہی گئی ہے، جسے یوروپا پریس نے ملاحظہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معذور افراد کو انتخابات میں حصہ لینے اور منتخب ہونے کی صورت میں مؤثر طریقے سے عوامی عہدہ سنبھالنے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس سے ان کے مساوی سیاسی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ معذور افراد کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، اس کے باوجود دنیا بھر میں معذور افراد کی سیاسی فیصلہ سازی میں نمائندگی انتہائی کم ہے۔
خصوصی نمائندہ نے ان رکاوٹوں کی نشاندہی کی، جن میں امتیازی قوانین، سماجی تعصب، ناقابل رسائی سیاسی ماحول، مناسب سہولیات کی کمی، مالی مشکلات، اور سیاسی تعلیم و قیادت تک محدود رسائی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ نے سفارش کی ہے کہ امتیازی قوانین ختم کیے جائیں، نمائندگی بڑھانے کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں، رسائی کے لازمی معیار مقرر کیے جائیں، معذور امیدواروں کے اضافی اخراجات کے لیے سرکاری مالی معاونت فراہم کی جائے، اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کی جائے۔
ان اقدامات میں پارلیمانی اسمبلیوں میں معذور افراد کے لیے مخصوص نشستیں اور انتخابی فہرستوں میں کوٹہ مقرر کرنا بھی شامل ہے، بشرطیکہ اس عمل میں معذور افراد سے مشاورت کی جائے اور ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لیا جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کے کوٹے میں معذور خواتین کو بھی واضح طور پر شامل کیا جائے اور مخصوص نشستیں مختلف اقسام کی معذوری رکھنے والے افراد کے لیے دستیاب ہوں۔
تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ صرف نشستیں مختص کرنا یا انتخابی فیس سے استثنا دینا کافی نہیں ہوگا، جب تک کہ یہ اقدامات وسیع اور جامع اصلاحات کا حصہ نہ ہوں۔
مزید برآں، ممالک کو چاہیے کہ وہ آگاہی مہمات شروع کریں تاکہ معذور افراد کی قیادت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے متعلق غلط تصورات کو ختم کیا جا سکے، خصوصاً ذہنی اور نفسیاتی معذوری رکھنے والے افراد کے حوالے سے، اور امتیازی یا نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اس حوالے سے اسپین کی نمائندہ تنظیم CERMI (ہسپانوی کمیٹی برائے نمائندگانِ معذوراں) نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ رپورٹ معذور افراد کے سیاسی حقوق کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ معذور افراد نہ صرف ووٹ دیں بلکہ قانون سازی، انتظامیہ اور سیاسی نمائندگی کے تمام اداروں میں مکمل کردار ادا کریں۔
CERMI نے ہسپانوی حکومت اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس رپورٹ کی سفارشات کا جائزہ لیں اور ایسے عملی اقدامات کریں جن سے معذور افراد کی سیاسی زندگی میں حقیقی مساوات یقینی بنائی جا سکے، اور ہر قسم کی قانونی، معاشی اور سماجی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔