اسپین میں 16 سال سے کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس فروخت کرنے پر پابندی لگائی جائے گی

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: وزارتِ صارفین (Consumo) نے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس فروخت کرنے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ وزیر برائے سماجی حقوق، صارفین اور ایجنڈا 2030، پابلو بوستندوی (Pablo Bustinduy) نے بتایا کہ حکومت ایک نیا قانون متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت تمام انرجی ڈرنکس کی فروخت 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے ممنوع ہوگی۔

مزید یہ کہ وہ انرجی ڈرنکس جن میں کیفین کی مقدار 32 ملی گرام فی 100 ملی لیٹر سے زیادہ ہوگی، ان کی فروخت پر پابندی کی عمر کی حد بڑھا کر 18 سال کر دی جائے گی۔

وزیر نے یہ اعلان بارسلونا میں گاسول فاؤنڈیشن (Gasol Foundation) کے نمائندوں سے ملاقات سے قبل کیا۔ یہ ادارہ بچوں میں موٹاپے کے خلاف صحت کے فروغ کے پروگرام چلاتا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب صوبہ گالیسیا میں 7 مارچ سے ایک نیا قانون نافذ ہونے والا ہے، جس کے تحت نہ صرف انرجی ڈرنکس کی فروخت بلکہ ان کا استعمال بھی 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے ممنوع ہوگا۔ اسی طرح استوریاس میں بھی اسی عمر کی حد کے ساتھ قانون سازی کا عمل جاری ہے۔

وزارت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد پورے اسپین میں ایک یکساں قانون نافذ کرنا ہے تاکہ مارکیٹ میں یکسانیت برقرار رہے اور کم عمر افراد کی صحت کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔

وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قانون ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور اسے جلد از جلد نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم اس قانون کی حتمی قانونی شکل اور منظوری کا ٹائم فریم ابھی طے نہیں ہوا، کیونکہ اسے حکومتی منظوری کے باقاعدہ مراحل سے گزرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے