اسپین نے 2019 سے اب تک غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف 20,000 سے زائد ملک بدریاں نافذ کیں

Screenshot

Screenshot

حکومت نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ 2019 سے اب تک اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے خلاف 20,682 ملک بدری کے احکامات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ میں مختلف صوبوں میں ان اقدامات کی صورتحال سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں فراہم کیے گئے۔

اس معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وبا کے اثرات کے بعد ملک بدری کے عمل میں بتدریج بحالی آئی ہے، کیونکہ 2020 میں وبا کے باعث انتظامی سرگرمیاں اور بین الاقوامی منتقلیاں شدید متاثر ہوئی تھیں۔

صحت کے بحران سے پہلے، 2019 میں ملک بدری کے 4,677 واقعات سامنے آئے تھے، تاہم 2020 میں نقل و حرکت پر پابندیوں اور انتظامی عمل کی معطلی کے باعث یہ تعداد کم ہو کر 1,834 رہ گئی۔

اس کے بعد 2021 سے اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہونا شروع ہوا:

• 2021: 2,025 ملک بدریاں

• 2022: 2,627 ملک بدریاں

• 2023: 3,090 ملک بدریاں

• 2024: 3,031 ملک بدریاں

• 2025: 3,398 ملک بدریاں

2020 سے 2025 کے درمیان مجموعی اضافہ 85 فیصد سے زیادہ رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وبا کے بعد ملک بدری کے عمل معمول پر واپس آ رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کو دیے گئے جواب میں حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس وقت اس کے پاس ایسا مکمل شماریاتی نظام موجود نہیں جس سے یہ درست طور پر معلوم ہو سکے کہ کتنے ملک بدری کے احکامات ابھی تک نافذ نہیں ہو سکے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انتظامی طور پر جاری کیے گئے ملک بدری کے احکامات اور وہ کیسز جن میں واقعی متعلقہ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں، ان کے درمیان درست فرق کرنا ممکن نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے