ہسپانوی وزیرِ دفاع مارگریتا روبلس اور امریکہ کے سفیر کی سفارتی کشیدگی کے دوران میڈرڈ میں ملاقات 

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ میں جاری سفارتی کشیدگی کے دوران اسپین کی وزیرِ دفاع مارگریٹا روبلس اور امریکہ کے سفیر بینجمن لیون کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں جانب سے بظاہر تناؤ ظاہر کرنے سے گریز کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ایران پر امریکی حملوں کے تناظر میں اسپین کی جانب سے روٹا اور مورون کے فوجی اڈوں کے استعمال سے انکار نے دونوں ممالک کے تعلقات میں غیر معمولی کھچاؤ پیدا کر دیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے مختصر بیان کے مطابق روبلس نے اس موقع پر واضح کیا کہ اسپین نیٹو کا ایک قابلِ اعتماد اتحادی ہے اور اس کی مسلح افواج عالمی امن کے قیام کے لیے نیٹو، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے مشنز میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو عالمی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور غزہ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی امن کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

یہ ملاقات بظاہر سفیر کی رسمی تعارفی نشست تھی، تاہم حالیہ بیانات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت ردعمل کے باعث اس کی اہمیت بڑھ گئی۔ فوجی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ کشیدگی کے نتیجے میں امریکہ دفاعی سازوسامان، پرزہ جات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی محدود کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ایف-18 طیاروں کے پرزے، پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور بحری جہازوں کے دفاعی نظام اس حوالے سے حساس معاملات سمجھے جا رہے ہیں۔

باوجود اس کے، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور مکمل سفارتی تعطل کا امکان کم ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ بحران میں محتاط سفارت کاری ہی تعلقات کو مزید بگاڑ سے بچا سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے