ماریانو راخوئی کا ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور انتہاپسندی کے رجحان پر تشویش کا اظہار
Screenshot
اسپین کے سابق وزیرِ اعظم ماریانو راخوئی نے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور انتہاپسندی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہاپسندانہ سیاست اداروں میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں بار بار انتخابات کرانا پڑتے ہیں۔
راجوئے نے یہ بات صوبہ سیگوویا میں کاروباری شخصیات اور ڈائریکٹرز کی تنظیم Adese کے ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر کاستیا و لیون کی علاقائی حکومت کے صدر اور آئندہ انتخابات میں دوبارہ امیدوار الفونسو فرنندز بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
اپنے خطاب میں سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس وقت اسپین کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو اعتدال اور ذمہ داری پر مبنی ہو۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پاپولر پارٹی ہی ملک میں ایک متوازن اور سمجھدار سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو استحکام کو ترجیح دے اور سیاسی نظام کو بار بار کے بحرانوں سے بچائے۔
راخوئی نے معاشی پالیسی پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کی اقتصادی حکمت عملی کا بنیادی مقصد عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق معاشی فیصلے اسی وقت کامیاب سمجھے جائیں گے جب ان سے عام لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے اور معاشرے میں ترقی اور استحکام پیدا ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو انتہاپسندی سے گریز کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو ملک کے اداروں کو مضبوط بنائیں اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھیں۔ ان کے بقول مستحکم جمہوریت کے لیے ذمہ دار سیاست اور متوازن پالیسیاں ناگزیر ہیں۔