ہسپانوی حکومت نے تاریخ کی سب سے بڑی اسکالرشپ اسکیم کی منظوری دے دی ہے، جس سے دس لاکھ طلبہ مستفید ہوں گے۔

Screenshot

Screenshot

وزراء کی کونسل نے منگل کے روز اس شاہی فرمان کی منظوری دی جس کے تحت آئندہ تعلیمی سال کے لیے وظائف کی نئی اسکیم نافذ کی جائے گی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تعلیم کے لیے وظائف کی رقم میں مسلسل نویں مرتبہ اضافہ کیا جا رہا ہے، جب سے پیدروسانچز کی حکومت 2018 میں اقتدار میں آئی تھی۔

اس سال وظائف کے لیے 2 ارب 55 کروڑ 90 لاکھ یورو مختص کیے جائیں گے، جو کہ سابق وزیر اعظم ماریانو راخوئی کی حکومت کے آخری سال میں مختص کیے گئے 1 ارب 39 کروڑ 90 لاکھ یورو کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے 18.8 ملین یورو ایک نئے پروگرام “لوئیسا دے میدرانو اسکالرشپ” کے لیے بھی مختص کیے ہیں۔ اس اسکالرشپ کے ذریعے طلبہ کو ایک تعلیمی سال کے لیے کسی دوسری خودمختار کمیونٹی کی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ پروگرام ماضی کی “سینیکا اسکالرشپس” جیسا ہے جسے 2013 میں سابق وزیر تعلیم خوسے اگناسیو ورت نے ختم کر دیا تھا۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق تقریباً 10 لاکھ طلبہ ان وظائف سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان میں سے 7 لاکھ 52 ہزار طلبہ عمومی اسکالرشپ پروگرام کے تحت جبکہ 2 لاکھ 25 ہزار خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے مختص پروگرام کے تحت شامل ہوں گے۔ یہ تعداد اس وقت سے 24.5 فیصد زیادہ ہے جب پاپولر پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تھی۔

وزیر تعلیم میلاگروس تولون نے وزراء کی کونسل کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ“یہ تاریخ میں وظائف کے لیے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔”

اس نئے پروگرام میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ حکومت نے جائیداد (اثاثوں) کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو گزشتہ 15 سال سے تبدیل نہیں ہوئی تھی اور اب پرانی ہو چکی تھی۔ وزیر تعلیم کے مطابق اس اقدام کا مقصد شرائط کو نرم کرنا نہیں بلکہ ایسے پرانے پیمانوں کو درست کرنا ہے جو بعض خاندانوں کو غیر ضروری طور پر اسکالرشپ سے محروم کر دیتے تھے۔

اس حد کے تحت اگر کسی خاندان کی جائیداد ایک خاص حد سے زیادہ ہو تو وہ آمدنی کم ہونے کے باوجود بھی اسکالرشپ کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ چونکہ گزشتہ برسوں میں جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے بہت سے خاندان صرف اس وجہ سے وظائف سے محروم ہو رہے تھے۔

تاہم آمدنی کی حد (رینتا) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جو یہ طے کرتی ہے کہ کون سا خاندان اسکالرشپ حاصل کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق یہ حد بہت کم ہے جس کی وجہ سے کچھ ایسے خاندان بھی وظائف سے محروم رہ جاتے ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

وظائف کی تین اقسام

وزارت تعلیم تین طرح کے وظائف فراہم کرتی ہے:

  1. مکمل اسکالرشپ

    • یونیورسٹی فیس کی ادائیگی
    • 1,700 یورو نقد امداد
    • اگر طالب علم کو رہائش تبدیل کرنی پڑے تو 2,700 یورو
    • بہترین کارکردگی پر 50 سے 125 یورو اضافی
    • آمدنی اور تعلیمی کارکردگی کے مطابق متغیر رقم
       اس اسکالرشپ کے لیے چار افراد پر مشتمل خاندان کی سالانہ آمدنی 22,107 یورو سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

  2. درمیانی اسکالرشپ

     اس میں 1,700 یورو کی نقد رقم شامل نہیں ہوتی، لیکن فیس، رہائش اور دیگر امداد برقرار رہتی ہے۔ اس کے لیے خاندان کی آمدنی 38,242 یورو سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

  3. بنیادی اسکالرشپ

     اس میں صرف یونیورسٹی فیس اور کارکردگی کے مطابق متغیر امداد شامل ہوتی ہے۔ اس کے لیے آمدنی کی حد 40,773 یورو ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ نظام میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ بعض ایسے خاندان جو غربت کی حد کے قریب ہیں، انہیں بھی مکمل اسکالرشپ نہیں مل پاتی۔

کام کرنے والے طلبہ کے لیے نئی سہولت

نئے پروگرام میں ایک اور تبدیلی یہ ہے کہ وہ طلبہ جو یونیورسٹی میں جزوی داخلہ (48 سے 59 کریڈٹس) کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ساتھ کام بھی کرتے ہیں، انہیں بھی مالی امداد مل سکے گی۔ ایسے تقریباً 20 ہزار طلبہ کو آمدنی اور رہائش کے وظائف میں سے ہر ایک کے لیے 350 یورو تک دیے جا سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے