ایران جنگ: اسپین کا مؤقف اصولی ہے، پیدرو سانچیز

Screenshot

Screenshot

اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ کے معاملے پر اسپین کا “جنگ کے خلاف” مؤقف کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ اصولی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا حل کسی کھلی غیرقانونی جنگ سے نہیں نکالا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جب اسپین نے “جنگ نہیں” کا مؤقف اختیار کیا تو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھی اسپین کے اس موقف کو سراہا گیا اور بہت سے لوگوں میں اسپین پر فخر کی لہر دیکھی گئی۔

سانچیز کے مطابق اسپین نے گزشتہ برسوں میں عالمی تنازعات کے بارے میں ایک مستقل پالیسی اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے یوکرائن کی جنگ ہو، غزہ کا بحران ہو یا اب ایران کا معاملہ، اسپین ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے احترام کی بات کرتا آیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فیصلے کی غیر مشروط حمایت کی جائے۔ ان کے مطابق اتحادی ممالک کے درمیان اختلافِ رائے بھی ممکن ہے۔

یورپی سیاست کے بارے میں بات کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، لیکن یورپی یونین کے بنیادی اصول اور اقدار تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کی بھی بات کی اور کہا کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق ختم ہونا چاہیے تاکہ عالمی ادارے زیادہ منصفانہ اور نمائندہ بن سکیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جنگ کے معاشی اثرات یورپ اور اسپین کے عوام تک پہنچ سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں کے ذریعے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسپین اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے معاشی اقدامات پر کام کر رہا ہے اور ساتھ ہی قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے تاکہ تیل اور گیس پر انحصار کم کیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے