مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی،دبئی سے عمان کے صحرا کے راستے کاتالان خاندان کا خطرناک سفر

Screenshot

Screenshot

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث دبئی میں موجود ایک کاتالان خاندان کو وطن واپسی کے لیے ایک غیر معمولی اور مشکل سفر کرنا پڑا۔ بارسلونا سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت جوردی تمبلےکے اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے 25 فروری کو دبئی گئے تھے، مگر چند ہی دن بعد خطے میں جنگی صورتحال نے ان کے سفر کو فرار کی ایک طویل مہم میں بدل دیا۔

جوردی تمبلےکے کے مطابق وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک ہوٹل کی چھت پر دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب اچانک تیز دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید فوجی طیارے پرواز کر رہے ہیں، مگر جلد ہی انہوں نے دیکھا کہ فضا میں راکٹ گزر رہے ہیں اور دفاعی نظام ان میزائلوں کو تباہ کر رہا ہے جو چند کلومیٹر دور واقع ایک امریکی فوجی اڈے کی طرف جا رہے تھے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر دبئی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے انہوں نے کمرشل پرواز کے ذریعے نکلنے کی کوشش کی، مگر ایئرپورٹ بند ہونے کے باعث ان کی پرواز منسوخ ہوگئی۔ جب فضائی سفر ممکن نہ رہا تو انہوں نے زمینی راستے سے عمان پہنچنے کا منصوبہ بنایا۔

بارہ افراد پر مشتمل اس گروہ میں مختلف قومیتوں کے افراد اور چھ بچے شامل تھے۔ وہ تین چار پہیوں والی گاڑیوں میں دبئی سے عمان کی سرحد کی طرف روانہ ہوئے۔ سرحد پر ایک اور مشکل پیش آئی کیونکہ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کو عمان میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے بعد گروپ نے عمان کی ایک ٹیکسی کمپنی سے رابطہ کیا جس نے نئے ڈرائیور سرحد پر بھیج دیے۔

گاڑیاں اور ڈرائیور تبدیل کرنے کے بعد انہوں نے تقریباً 500 کلومیٹر کا سفر عمان کے صحرا سے گزرتے ہوئے دارالحکومت مسقط کے ایئرپورٹ تک طے کیا۔ وہاں سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے انہیں لیتھوینیا کے دارالحکومت ولنیئس پہنچایا گیا۔ یہ پرواز جنگی علاقوں سے بچنے کے لیے ترکی، جرمنی اور پولینڈ کے اوپر سے گزری اور تقریباً دس گھنٹے بعد منزل پر پہنچی۔

بعد ازاں جوردی تمبلےکے اور ان کا بیٹا ولنیئس سے بارسلونا پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں فوری فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ تاخیر بعض اوقات زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے