اسپین میں پیٹرول پمپس پر قیمتوں میں زبردست اضافہ
Screenshot
“اگر حالات ایسے ہی رہے تو مہینے کے آخر تک میری جیب سے 200 یورو کم ہو جائیں گے”
ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ڈیزل کی قیمت میں 20 فیصد اور پیٹرول میں 10 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، یہ اعداد و شمار وزارتِ ماحولیاتی منتقلی (Ministerio de Transición Ecológica) کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
میڈرڈ/میڈرڈ کے مشرقی علاقے میں ایک پیٹرول پمپ کے روشن بورڈ پر درج قیمتیں وہاں آنے والے بیشتر صارفین کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ ڈیزل کی قیمت 1.829 یورو فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 1.715 یورو فی لیٹر دکھائی جا رہی ہے۔ صرف ایک ہفتہ پہلے جب ایران پر بمباری شروع نہیں ہوئی تھی دونوں ایندھن کی قیمتیں 1.60 یورو سے کم تھیں۔
62 سالہ سیلز مین فرانسسکو خاویئر گونزالیز، جو اپنے کام کے سلسلے میں ہفتے میں 700 سے 1000 کلومیٹر سفر کرتے ہیں، گاڑی میں ایندھن بھروا کر جب ادائیگی کرتے ہیں تو ان کے الفاظ میں غصہ صاف نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں گزشتہ ہفتے گاڑی کا ٹینک بھرنے پر 55 یورو لگے تھے، لیکن آج مجھے 70 یورو ادا کرنے پڑے۔”
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد خلیج فارس کے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جو عالمی تیل کی منڈی کا ایک اہم مرکز ہے۔ اسی خطے میں واقع آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور یہ راستہ گزشتہ ہفتے سے بند ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی، جس کے اثرات اسپین کے پیٹرول پمپس پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ وزارتِ ماحولیاتی منتقلی کے مطابق اس دوران ڈیزل کی قیمت میں 20 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈیزل کی قیمتیں اب پیٹرول سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں، جو کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مشکل ہے جن کے لیے گاڑی کے بغیر کام ممکن نہیں۔
فرانسسکو گونزالیز کہتے ہیں“کاش میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر سکتا، لیکن میں سیلز مین ہوں۔”
وہ ہر ماہ ایندھن کے لیے تقریباً 1000 یورو کا بجٹ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو اس مہینے ان کے اخراجات میں تقریباً 200 یورو کا اضافہ ہو جائے گا۔
میگوئل اینخل گونزالیز، جو تعمیراتی کمپنی Gruconsa میں سائٹ سپروائزر ہیں، اپنی سوزوکی برگمین موٹر سائیکل پر ایندھن لینے آتے ہیں۔ وہ روزانہ تقریباً 200 سے 300 کلومیٹر مختلف تعمیراتی مقامات کے معائنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔
قیمتوں کے ممکنہ اضافے کے بارے میں وہ قدرے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں“سچ پوچھیں تو میں سوچنا ہی نہیں چاہتا کہ قیمت کہاں تک جا سکتی ہے۔ بعض اوقات لاعلمی بھی اچھی ہوتی ہے۔”
ان کے مطابق اخراجات میں اس اضافے کا بوجھ آخرکار کمپنیوں کو اپنے صارفین پر ڈالنا پڑے گا۔ ان کے خیال میں اس مسئلے کا ایک حل ایندھن پر عائد ٹیکس کم کرنا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح 59 سالہ ٹیکسی ڈرائیور خاویئر پیریز کا کہنا ہے کہ حکومت کو ویسے ہی اقدامات کرنے چاہئیں جیسے یوکرین جنگ کے دوران کیے گئے تھے، جب فی لیٹر 20 سینٹ کی سبسڈی دی گئی تھی۔
وہ کہتے ہیں“اگر حکومت نے کچھ نہ کیا تو سارا نقصان ہمیں ہی برداشت کرنا پڑے گا، کیونکہ ٹیکسی کا کرایہ مقررہ ہوتا ہے۔”
تاہم جو لوگ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، ان پر اس وقت اثر نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر اس ٹیکسی ڈرائیور کی ٹویوٹا گاڑی پیٹرول پر چلتی ہے، جس پر اثر ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کم ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں ڈیزل کی قیمتیں زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہیں کیونکہ وہ عالمی منڈی سے زیادہ وابستہ ہیں، جبکہ پیٹرول نسبتاً مستحکم رہتا ہے کیونکہ یورپ میں اس کی ریفائننگ کی صلاحیت زیادہ ہے۔
ٹیکسی چلانے والے ایوان کابالیرو، جو تین ماہ سے اس پیشے سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو انہیں اپنی زندگی کا طریقہ بدلنا پڑ سکتا ہے۔
وہ روزانہ 10 سے 12 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ہفتے میں صرف ایک دن چھٹی لیتے ہیں۔ ان کے مطابق“مجھے شاید روزانہ ایک گھنٹہ مزید کام کرنا پڑے گا تاکہ اخراجات پورے ہو سکیں۔”
فی الحال سب لوگ جنگ کی صورتحال کے بدلنے کا انتظار کر رہے ہیں اور اپنے اخراجات کا حساب لگا رہے ہیں۔