اسپانش سفارت خانہ اسلام آباد میں ویزا اور اپائنٹمنٹ کے مسائل پر وزرات خارجہ میڈرڈ میں پاکستانی وفد کی ذمہ داران سے ملاقات

IMG_2958

میڈرڈ/پاکستانی کمیونٹی کو اسپانش سفارت خانہ اسلام آباد سے درپیش مسائل کے حل وآگاہی کے لئے دفتر خارجہ میڈرڈ میں اسپانش سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ڈیل کرنے والے رامون(Ramón Manuel 

Subdirector General de Españoles en el Exterior y de asuntos Consulares) اور ماریا کروس (Maria Cruz 

Subdirector General de Visados y Documentos de Viaje)سے پاک کاتالان فیڈریشن کے صدر خالد شہباز  چوہان،راجہ شفیق الرحمن ،بیرسٹر عدیل خان یوسفزئی اور ڈاکٹرقمرفاروق نے ملاقات کی اور تفصیل کے ساتھ دو گھنٹہ کی ملاقات میں تمام مسائل سے آگاہ کیا۔

تمام مسائل سننے کے بعد کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں اسپین میں ویزا درخواستوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2024 میں 19,000 ویزوں پر کارروائی ہوئی، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد بڑھ کر 25,000 ویزوں تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ وہ ویزے بھی شامل کیے جا رہے ہیں اور افغان پناہ گزین  کی درخواستوں کو بھی نمٹایا جارہا ہے جس کی وجہ سے زیادہ رش ہے 

 سفارت خانے پر اس اضافے کی وجہ سے کام کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ موجودہ عملہ محدود ہونے کے باوجود اضافی ملاقاتیں (اپائنٹمنٹس) نمٹانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن لوگوں کے تین سال تک انتظار کرنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا  کہ کچھ درخواست گزار غیرسرکاری چیٹس یا گروپس سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو اکثر مافیا یا ہیکرز کی جانب سے چلائے جاتے ہیں اور سسٹمز میں مداخلت کر کے اپائنٹمنٹس حاصل کر لیتے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیےBLS کے ساتھ نئے سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں درخواست دینے والے کی تصویر (سیلفی) کے ذریعے تصدیق شامل ہے۔

ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کے استعمال سے، جن افراد کے پاس رہائشی اجازت نامہ نہیں ہے، وہ بھی پاسپورٹ اور PIN کے ذریعے پدرون حاصل کر سکتے ہیں اور میڈیکل اپائنٹمنٹ لے سکتے ہیں۔ تاہم، خاندانی بنیاد پر رہائش کی اجازت کی میعاد چھ ماہ ہوتی ہے اور یہ چھ ماہ بعد ختم ہو جاتی ہے، جسے کم سے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید بتایا کہ اپائنٹمنٹس کی ترجیح دینا پیچیدہ ہے، کیونکہ یہ مختلف درخواست گزاروں میں ناراضگی پیدا کر سکتا ہے۔ اس مسئلے پر مسلسل کام ہو رہا ہے اور کمپنی BLS کے ساتھ رابطے بڑھائے جا رہے ہیں تاکہ بدعنوانی یا مشتبہ کارروائی کے کیسز کی تحریری اطلاع دی جا سکے، اور اگر مسئلہ موجود ہو تو اسے ثبوت کے ساتھ کمپنی کے سامنے پیش کیا جائے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کے لیے ایک رابطے کا چینل قائم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی شکایات اور سوالات بھیج سکیں، اور متعلقہ نمبرز فراہم کیے جائیں تاکہ رابطہ آسان ہو۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے