تمام ترقی پسند ووٹر سوشلسٹ پارٹی کے حق میں متحد ہوجائیں،تاکہ دائیں بازو کی جماعتوں کو شکست دی جا سکے۔سانچز

Screenshot

Screenshot

اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز نے کاستیا و لیون کے علاقائی انتخابات کی انتخابی مہم کے اختتام پر تمام ترقی پسند ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ (PSOE) کے حق میں متحد ہو جائیں تاکہ دائیں بازو کی جماعتوں کو شکست دی جا سکے۔

اختتامی جلسہ Valladolid میں واقع Cúpula del Milenio میں منعقد ہوا جہاں تقریباً دو ہزار افراد ہال کے اندر موجود تھے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ افراد نے باہر اسکرینوں پر خطاب دیکھا۔ جلسے میں سابق وزیر اعظم ژپاتیرو وزیر ٹرانسپورٹ اوسکر پونتے اور سوشلسٹ امیدوار کارلوس مارتینز بھی شریک تھے۔

سانچیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقی پسند ووٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنی سابقہ سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر سوشلسٹ پارٹی کو ووٹ دیں کیونکہ یہی جماعت انتخابات جیت کر تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مزید Alfonso Fernández Mañueco کی حکومت یا Santiago Abascal کی نفرت انگیز سیاست نہیں چاہتے بلکہ ایک نئی سمت چاہتے ہیں جس کی نمائندگی کارلوس مارتینیز کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے خواتین ووٹروں کو بھی خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ایک فیمنسٹ حکومت ہے جو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کاستیا و لیون کی خواتین برابری اور انصاف کے حق میں ووٹ دیں گی۔

جلسے میں سانچیز اور زاپاتیرو دونوں نے “جنگ نہیں” کے نعرے کو اپنی تقریروں کا مرکزی موضوع بنایا۔ زاپاتیرو نے اپنی حکومت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ انہوں نے 2004 میں اقتدار سنبھالتے ہی اسپین کی فوج کو عراق جنگ سے واپس بلا لیا تھا کیونکہ وہ اس جنگ کو غیر قانونی سمجھتے تھے۔

سانچیز نے کہا کہ حقیقی حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے ساتھ ساتھ غلط فیصلوں پر تنقید بھی کی جائے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں انتخاب واضح ہے: جنگ یا امن، جنگل کا قانون یا بین الاقوامی قانون۔

اختتام پر کارلوس مارتینیز نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اتوار کو ووٹ دے کر تقریباً چالیس سال سے جاری سیاسی صورتحال کو بدل دیں اور کاستیا و لیون کے لیے ایک نئی سیاسی سمت کا انتخاب کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے