یورپ مشترکہ اقدار اور یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہے، اس لیے اسپین فرانس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے۔سانچز

Screenshot

Screenshot

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز نے ایران کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپین فرانس کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہے اور یورپ اس مشکل گھڑی میں فرانسیسی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

میڈرڈ سے جاری بیان کے مطابق عراق کے شہر Erbil کے قریب ایک فوجی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں فرانسیسی فوج کے سب آفیسر آرنو فریوں ہلاک ہو گئے، جبکہ کئی دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے بعد کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

وزیر اعظم سانچیز نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ یورپ مشترکہ اقدار اور یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہے، اس لیے اسپین فرانس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے فوجی کے اہل خانہ، ساتھیوں اور فرانسیسی قوم سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل البارئس نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسے ناقابلِ جواز حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے عراق میں موجود یورپی اتحادیوں پر حملوں کو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ الباریس نے زخمی ہونے والے فوجیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

فرانس کے صدر ماکرون نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں فرانسیسی فوج کی موجودگی دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کے تحت ہے اور ایسے حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔

ادھر ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر فرانس نے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیاں جاری رکھیں تو عراق اور آس پاس کے علاقوں میں فرانسیسی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے