اسپین نے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کر دیا
Screenshot
میڈرڈ/ اسپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن میں حصہ نہیں لے گا کیونکہ اس کے نزدیک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ غیر قانونی ہے۔ یہ بات اسپین کی وزیر دفاع مارگریتا روبلس اور وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے کہی۔
بائیں بازو کے اتحاد پر مشتمل حکومت، جس کی قیادت وزیر اعظم پیدروسانچز کر رہے ہیں، اس فوجی کارروائی پر پہلے ہی تنقید کر چکی ہے۔ حکومت نے جنوبی اسپین میں مشترکہ طور پر استعمال ہونے والے فوجی اڈوں سے امریکی طیاروں کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
وزیر دفاع مارگریتا روبلس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ اسپین آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے فوجی تعاون فراہم کرے۔ ایران نے عملی طور پر اس اہم آبی گزرگاہ میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت روک دی ہے، جس کے بعد ٹرمپ نے ان نیٹو اتحادیوں کو سخت نتائج کی دھمکی دی تھی جو اس کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔
وزیر دفاع روبلیس نے کہا“اسپین کسی عارضی یا وقتی حل کو قبول نہیں کرے گا، کیونکہ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جنگ ختم ہو، اور فوری طور پر ختم ہو۔”
وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال یورپ کے لیے تشویش کا باعث ہے، لیکن یورپی یونین کا مؤقف یہ ہونا چاہیے کہ جنگ کو ہر حال میں ختم کیا جائے، چاہے معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔
انہوں نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا“ہمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو کشیدگی میں مزید اضافہ کرے یا صورتحال کو مزید خراب کرے۔”
یورپی یونین کے کچھ دیگر ممالک جیسے جرمنی ،اٹلی اور یونان بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے، جبکہ ڈنمارک سمیت بعض ممالک نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔