ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدروسانچز کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ظاہر

Screenshot

Screenshot

ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدروسانچز نے خلیجِ ہرمز (آبنائے ہرمز) کو دوبارہ کھولنے اور مشرقِ وسطیٰ میں تمام توانائی کے ذخائر کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ پوری دنیا کے لیے طویل مدتی توانائی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

میڈرڈ میں جاری بیان کے مطابق سانچیز نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، اور ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ (جو 28 فروری سے جاری ہے) کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے،مشرقِ وسطیٰ کے تمام توانائی کے وسائل کو محفوظ بنایا جائے،ان کا کہنا تھا کہ “دنیا کو اس جنگ کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔”

اس سے قبل جمعہ کے روز پیدروسانچز نے ایک معاشی منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ایران جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے 5 ارب یورو مختص کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس تنازع کے باعث عالمی معیشت میں ہلچل شروع ہو چکی ہے، جس کی ایک مثال ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

دوسری جانب، یورپی کونسل نے بھی اس بات کی منظوری دی ہے کہ یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں حصہ ڈال سکتے ہیں، تاہم یہ اقدام مناسب حالات پیدا ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

یورپی رہنماؤں نے اس موقع پر تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے