ناچو ویدال کو منشیات کے مقدمے میں تین سال قید، عدالت نے سزا معطل کر دی
Screenshot
اسپین کے معروف سابق فحش فلم اداکار ناچو ویدال کو منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی استعمال کو فروغ دینے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، تاہم عدالت نے مخصوص شرائط کے تحت اس سزا پر فوری عمل درآمد معطل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ والینسیا کی عدالت کی جانب سے استغاثہ کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے بعد سنایا گیا، جس میں ناچو ویدال نے اعتراف کیا کہ اس کے قبضے سے تقریباً 100 گرام “گلابی کوکین” برآمد ہوئی تھی، جسے عام طور پر “توسی” (TUSI) کہا جاتا ہے۔ عدالت نے اس اعتراف کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا تو سنائی، لیکن اسے معطل کرتے ہوئے ملزم کو ایک موقع بھی فراہم کیا۔
عدالتی حکم کے مطابق ناچو ویدال کو جیل نہیں بھیجا جائے گا، بشرطیکہ وہ آئندہ چار سال تک کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہ ہو اور باقاعدگی سے منشیات سے نجات کے علاج (rehabilitation) کا عمل مکمل کرے۔ اگر وہ ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو سزا پر دوبارہ عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ناچو ویدال کو 28 فروری 2025 کی رات قومی پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب اس کے پاس 103 گرام توسی اور 33 گولیاں ایک ایسی دوا کی برآمد ہوئیں جو صرف طبی نسخے پر فراہم کی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی معمول کی چیکنگ کے دوران عمل میں آئی۔
ملزم نے عدالت میں یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ طویل عرصے سے منشیات کا عادی ہے اور اپنی لت کو پورا کرنے کے لیے اس نے منشیات کی خرید و فروخت کا راستہ اختیار کیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے اس کی سزا میں منشیات کی لت کو ایک تخفیفی عنصر کے طور پر شامل کیا۔
دوسری جانب ناچو ویدال کو ایک اور سنگین مقدمے کا بھی سامنا ہے، جس میں اسے چار سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ کیس فوٹوگرافر José Luis Abad کی 2019 میں ہونے والی ہلاکت سے متعلق ہے، جو ایک متنازع رسم کے دوران پیش آئی تھی۔