اسپین میں تارکین وطن کی ریگولرائزیشن کا آغاز، دفاتر اور قونصل خانوں کے باہر لمبی قطاریں

Screenshot

Screenshot

اسپین میں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا غیر معمولی ریگولرائزیشن پروگرام باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی ملک بھر میں سرکاری دفاتر، بلدیاتی مراکز اور قونصل خانوں کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔ ہزاروں تارکین وطن اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری دستاویزات حاصل کرنے اور درخواستیں جمع کرانے میں مصروف ہیں۔

وزارتِ شمولیت، سوشل سیکیورٹی اور مہاجرت کے مطابق اس پروگرام کے تحت تقریباً آٹھ لاکھ افراد ایک سال کے لیے رہائش اور کام کا اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک آن لائن پورٹل بھی فعال کیا گیا ہے، تاہم زیادہ تر درخواست دہندگان کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس کے لیے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ درکار ہے، جو اکثر غیر دستاویزی افراد کے پاس موجود نہیں ہوتا۔

حکام کے مطابق اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہو اور یکم جنوری 2026 سے قبل اپنی موجودگی کا ثبوت پیش کرے۔ اس کے علاوہ اسپین اور گزشتہ پانچ برسوں میں رہائش رکھنے والے دیگر ممالک سے مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ان ہی دستاویزات کے حصول کے لیے بارسلونا، میڈرڈ اور دیگر شہروں میں قونصل خانوں اور بلدیاتی دفاتر کے باہر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر پدرون سرٹیفکیٹ اور سابقہ جرائم کے ریکارڈ کے لیے درخواستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بارسلونا میں شہری خدمات کے دفاتر کے باہر درجنوں افراد گھنٹوں انتظار کرتے دکھائی دیے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے اضافی عملہ بھی تعینات کیا ہے۔

متعدد تارکین وطن، جن میں الجزائر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بغیر کاغذات کے مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس پروگرام کو اپنے مستقبل کے لیے ایک اہم موقع سمجھتے ہیں۔ تاہم کچھ افراد کو خدشہ ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے بعد میں آنے کی وجہ سے اس اسکیم سے باہر رہ جائیں گے۔

دوسری جانب، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جن افراد کو اپنے ممالک سے مجرمانہ ریکارڈ کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی، انہیں مزید تین ماہ کی مہلت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ درخواست دینے کا ثبوت فراہم کریں۔

حکام نے ملک بھر میں 450 دفاتر مختص کیے ہیں اور عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں رش میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو انتظامی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے