بادالونا میں مہاجرین کی ریگولرائزیشن کا آغاز، سٹی ہال کے باہر طویل قطاریں، میئر کی معمول کی شہری خدمات برقرار رکھنے کی ہدایت

Screenshot

Screenshot

اسپین میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ غیر معمولی ریگولرائزیشن پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوتے ہی کاتالونیا کے شہر بادالونا میں شہری سہولت مراکز کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ جمعرات کی صبح سے ہی بڑی تعداد میں غیر دستاویزی تارکین وطن درخواستیں جمع کرانے کے لیے سٹی ہال اور دیگر متعلقہ دفاتر کا رخ کرنے لگے، جس کے باعث نظام پر دباؤ بڑھ گیا۔

وزارت کی جانب سے درخواستیں جمع کرانے کے لیے آن لائن پلیٹ فارم بھی فعال کر دیا گیا ہے، تاہم بہت سے افراد ذاتی طور پر دفاتر پہنچ کر رہنمائی حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم یکم جنوری سے اسپین میں اپنی موجودگی ثابت کریں اور یہ بھی دکھائیں کہ ان کا اسپین یا گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسی بھی ملک میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں۔

بادالونا کے میئر ژاویر گارسیا البیول نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ کاتالونیا کے مختلف بلدیاتی اداروں کی خدمات اس غیر معمولی رش کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شہری دفاتر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

میئر نے واضح ہدایت جاری کی کہ میونسپل تکنیکی عملہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ریگولرائزیشن کے لیے آنے والی درخواستوں کا عمل بادالونا کے عام شہریوں کو فراہم کی جانے والی معمول کی خدمات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی شہریوں کی روزمرہ ضروریات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

دوسری جانب، البیول نے مرکزی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسی نے بلدیاتی اداروں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتائج مقامی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ بلدیات کھل کر اس پر تنقید نہیں کریں گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال انتظامی چیلنجز کو بڑھا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس ریگولرائزیشن پروگرام سے لاکھوں مہاجرین کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ کو بڑھتے ہوئے دباؤ اور انتظامی مسائل کا سامنا بھی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے