اسپین میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ریگولرائزیشن، کیتھولک تنظیموں کی بھرپور حمایت

Screenshot

Screenshot

اسپین کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے بڑے فیصلے پر کیتھولک تنظیموں نے اسے ایک مثبت اور اخلاقی قدم قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم پیدروسانچز کی حکومت نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت تقریباً پانچ لاکھ مہاجرین کو رہائش اور کام کی قانونی اجازت دی جائے گی۔

اس اقدام کی حمایت میں Cáritas، REDES، CONFER اور Conferencia Episcopal Española نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ ان اداروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف سماجی انصاف بلکہ انسانی وقار کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی عزت، حفاظت اور انہیں بنیادی حقوق فراہم کرنا چرچ کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور یہی تعلیمات انجیل کی روح کے مطابق ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف پیش رفت ہے جہاں کسی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

حکومتی منصوبے کے تحت 16 اپریل سے 30 جون تک درخواستیں وصول کی جائیں گی، جس کے بعد کامیاب درخواست گزاروں کو رہائش، روزگار، سوشل سیکیورٹی اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی دی جائے گی۔ تاہم اس فیصلے کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا کیونکہ حکومت کو وہاں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں تھی، جبکہ Consejo de Estado نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

کیتھولک تنظیموں نے اس عمل کو انتظامی طور پر پیچیدہ قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے لیے مناسب وسائل فراہم کرے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت معلومات اور سہولیات میسر آ سکیں۔

سماجی اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی حیثیت رکھنے والے افراد میں سے تقریباً 68 فیصد سماجی محرومی کا شکار ہیں۔ Cáritas کے مطابق 2024 میں ان کے زیرِ کفالت افراد میں سے تقریباً 47 فیصد ایسے تھے جن کی قانونی حیثیت واضح نہیں تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف مہاجرین کو استحکام ملے گا بلکہ معیشت کو بھی فائدہ ہوگا، کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے اور ملکی فلاحی نظام کو مضبوط کریں گے۔ یہ فیصلہ مہاجرین کو غیر یقینی صورتحال سے نکال کر ایک باعزت اور محفوظ زندگی کی طرف لے جانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے