اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کا سوشل میڈیا پر یورپی سطح پر مشترکہ کارروائی کا مطالبہ، “ڈیجیٹل بالغ ہونے کی عمر”کا تعین کیا جائے
Screenshot
میڈرڈ/وزیراعظم پیدرو سانچیز نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے نقصانات اور خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ اور ہم آہنگ حکمتِ عملی اپنائے تاکہ اس مسئلے میں رکن ممالک کے درمیان تقسیم اور مؤثر کارروائی کی کمی نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں سوشل میڈیا کے “نقصان دہ اثرات” بڑھ رہے ہیں، جن میں ذہنی دباؤ، منفی رجحانات، تصاویر کے غلط استعمال، نشہ آور استعمال اور غیر قانونی یا نقصان دہ مواد تک رسائی شامل ہے۔
سانچیز نے کہا کہ سائنسی، طبی اور تعلیمی تحقیق واضح کرتی ہے کہ یہ پلیٹ فارمز نوجوانوں میں پولرائزیشن (انتہاپسندی)، نشہ جیسی عادت اور نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے یونیسف اور یونیورسٹی آف سینٹیاگو ڈی کمپوستیلا کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسپین میں 98 فیصد نوجوان سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، اور ان میں سے تقریباً 76 فیصد کم از کم تین یا اس سے زیادہ ایپس استعمال کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نابالغوں کو ان خطرات سے بچانا ایک “فوری اور مشترکہ ترجیح” بن چکا ہے، نہ صرف اسپین بلکہ پورے یورپ کے لیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسپین دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس سمت میں قیادت کر رہا ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا استعمال کی حد مقرر کرنے، نئے جرائم کو قانونی طور پر واضح کرنے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر والدین کے کنٹرول سسٹم کو لازمی بنانے اور جوابدہی کو مضبوط کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سانچیز نے یورپی کمیشن کی اس نئی پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا جس میں عمر کی تصدیق (age verification) کے لیے ایک نئی ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔