ٹرمپ کی اسپین پر تنقید، ایران اور نیٹو تنازع کے دوران وزیراعظم پیدرو سانچیز پر سیاسی مقاصد کے الزامات

Screenshot

Screenshot

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پیدرو سانچیز نیٹو اور ایران کے تنازع میں امریکہ کے خلاف ایک متبادل یورپی قوت کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا ہے جب سانچیز نے بارسلونا میں بائیں بازو کے عالمی رہنماؤں کی کانفرنس کی میزبانی کی اور نیٹو کے دفاعی اخراجات میں اضافے سے بھی اختلاف کیا۔

رپورٹس کے مطابق سانچیز نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کی کھل کر مخالفت کی ہے اور یہاں تک کہ اسپین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسی کارروائیاں عالمی قوانین اور اسپین کی اقدار کے خلاف ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر خاموش ہیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں اسپین کی معیشت اور نیٹو میں اس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک دفاعی اخراجات میں کم حصہ ڈال رہا ہے لیکن سیاسی طور پر امریکہ کے خلاف سخت بیانات دے رہا ہے۔

دوسری جانب کچھ ہسپانوی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے الزام لگایا ہے کہ سانچیز کی یہ خارجہ پالیسی دراصل اندرونی سیاسی دباؤ اور کرپشن کے الزامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ایک صحافی نے دعویٰ کیا کہ یہ حکمت عملی انتخابی سیاست کا حصہ ہے تاکہ عوامی توجہ حکومت کے خلاف جاری تحقیقات سے ہٹائی جا سکے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سانچیز کی اہلیہ اور خاندان کے بعض افراد پر بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں، تاہم وزیراعظم اور ان کے حامی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

ادھر حکومتِ اسپین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنی خارجہ پالیسی پر واضح مؤقف رکھتے ہیں اور وہ عالمی امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ حکومت نے ٹرمپ کے بیانات پر براہ راست ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اسپین اور امریکہ کے درمیان یہ کشیدگی آنے والے مہینوں میں یورپی سیاست اور نیٹو اتحاد پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے