اسپین میں 61 فیصد کرایہ کی رہائشیں بڑے مالکان کے قبضے میں

Screenshot

Screenshot

وزارتِ صارفین اور سائنسی ادارے سی ایس آئی سی کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق اسپین میں کرایہ کے 61 فیصد مکانات ایسے افراد، کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے پاس ہیں جو ایک سے زیادہ جائیدادیں کرایہ پر دیتے ہیں، جبکہ باقی حصہ ان چھوٹے مالکان کے پاس ہے جن کے پاس صرف ایک مکان کرایہ پر ہے۔

یہ رپورٹ “پینل دے اوگارَیس” کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس میں انکم ٹیکس (IRPF)، ویلتھ ٹیکس اور Instituto Nacional de Estadística (INE) کی معلومات شامل کی گئی ہیں۔

2023 کے اعداد و شمار کے مطابق کل آبادی کا صرف 4.9 فیصد حصہ (یا بالغ افراد کا 5.7 فیصد) کرایہ سے آمدنی حاصل کرتا ہے، جبکہ گھریلو سطح پر یہ شرح 9.3 فیصد تک پہنچتی ہے۔ اس کے مقابلے میں کرایہ داروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، جو کل آبادی کا تقریباً 20.8 فیصد بنتے ہیں۔

رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نجی مالکان کے زیرِ انتظام کرایہ کی نصف سے زیادہ جائیدادیں ایسے افراد کے پاس ہیں جو دو یا اس سے زائد مکانات کرایہ پر دیتے ہیں۔ یہ شرح 52.8 فیصد ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے مالکان اسپین میں غالب حیثیت نہیں رکھتے۔

بڑی شہروں میں یہ رجحان زیادہ نمایاں ہے، خاص طور پر وہاں جہاں کرایہ زیادہ ہے۔ Las Palmas de Gran Canaria میں 64.9 فیصد، Santa Cruz de Tenerife میں 64.6 فیصد، Palma میں 63.1 فیصد، Barcelona میں 60.8 فیصد اور Madrid میں 56.4 فیصد مالکان ایسے ہیں جن کے پاس ایک سے زیادہ کرایہ کی جائیدادیں ہیں۔

2016 سے 2023 کے درمیان بڑے مالکان نے اپنی جائیدادوں میں 39.9 فیصد اضافہ کیا، جو عام افراد کے 30.4 فیصد اضافے سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں نجی مالکان کے زیرِ کرایہ مکانات کی تعداد 19 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ 70 ہزار سے زائد ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ کرایہ کے مکانات کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس سے چھوٹے مالکان کی پوزیشن مضبوط نہیں ہوئی بلکہ بڑے مالکان کی گرفت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے