ایک ہی گولی میں تین ادویات: فالج کے دوبارہ خطرے میں 39 فیصد کمی
Screenshot
نئی طبی تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کے لیے تین مختلف ادویات پر مشتمل ایک ہی گولی استعمال کرنے سے دماغی شریان پھٹنے (ہیموریجک اسٹروک) کے بعد دوبارہ فالج کے خطرے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ تحقیق ایک بین الاقوامی ٹیم نے جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی قیادت میں کی، جس کے نتائج معروف طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق میں استعمال ہونے والی دوا GMRx2 ہے، جو کم مقدار میں تین ادویات (ٹیلمیسارٹن، ایملوڈیپین اور انڈاپامائیڈ) پر مشتمل ایک مشترکہ گولی ہے، جو روزانہ ایک بار لی جاتی ہے۔
مطالعے کے مرکزی محقق پروفیسر کریگ اینڈرسن کے مطابق، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا فالج سے بچاؤ کا واحد ثابت شدہ طریقہ ہے، لیکن مریضوں کے لیے مختلف ادویات کا پیچیدہ شیڈول برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس نئی مشترکہ گولی نے اس مسئلے کو آسان بنا دیا ہے۔
اہم نتائج:
- تین سال کے اوسط جائزے میں
- GMRx2 لینے والے مریضوں میں فالج کی شرح 4.6 فیصد رہی
- جبکہ پلیسیبو گروپ میں یہ 7.4 فیصد تھی
- یعنی فالج کے دوبارہ خطرے میں 39 فیصد کمی
- ہر 35 مریضوں میں سے ایک فالج کو روکا جا سکا
- بلڈ پریشر اوسطاً 9 mmHg تک کم ہوا
- دل کے بڑے امراض (فالج، ہارٹ اٹیک، یا قلبی موت) کا خطرہ بھی 33 فیصد کم ہوا
تحقیق میں 1,670 ایسے مریض شامل تھے جو پہلے دماغی شریان پھٹنے کے باعث فالج کا شکار ہو چکے تھے اور ان کا بلڈ پریشر 130 سے 160 mmHg کے درمیان تھا۔
ماہرین کے مطابق اس علاج کے مضر اثرات بھی زیادہ نہیں تھے، اور تھکن، چکر یا گرنے جیسے مسائل دونوں گروپس میں تقریباً یکساں رہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ افراد اس قسم کے فالج کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ ہر سال 30 لاکھ سے زائد نئے کیس سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد دوبارہ فالج یا دل کی بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دوا کی باقاعدہ منظوری مل جاتی ہے تو یہ دنیا بھر میں لاکھوں مریضوں کے لیے علاج کا ایک مؤثر اور آسان طریقہ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔