بارسلونا میں غیر قانونی بیئر فروش اب بھی موجود ہیں

Screenshot

Screenshot

بارسلونا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران منشیات اور چوری جیسے مسائل نے اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ دیگر مستقل مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر سڑکوں پر بیئر کے کین کی غیر قانونی فروخت اب عام گفتگو کا حصہ نہیں رہی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رات کے وقت بیئر بیچنے والے غائب ہو گئے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی موجود ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2025 میں بلدیہ نے عوامی مقامات پر شراب نوشی کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا اور جرمانوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔

گرمیوں کے قریب آتے ہی جب بھی رات کے شور پر کنٹرول کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر توجہ کیفے اور ریسٹورنٹس کی بیرونی نشستوں (ٹیرسز) پر دی جاتی ہے۔ یقیناً کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں سخت کارروائی ہونی چاہیے، مگر اس کے برعکس اس مسئلے پر کم بات ہوتی ہے کہ جب یہ ٹیرسز بند ہو جاتی ہیں یا جہاں بار ہی موجود نہیں ہوتے تو کیا ہوتا ہے۔ ایسے مقامات پر ایک جیسے پس منظر رکھنے والے درجنوں نوجوان نمودار ہوتے ہیں، جو اپنی ہجرت کے قرض چکانے کے لیے مجبوری میں بیئر کے کین فروخت کرتے ہیں۔ یہ وہ بیئر ہوتی ہے جو لوگ وہیں کھلے عام شور و غل کے ساتھ پیتے ہیں، مگر ان کے لیے کوئی سہولت یا نظم موجود نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ اس مسئلے کو سیاحت سے جوڑ کر جواز پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف سیاحتی علاقوں تک محدود نہیں۔ مقامی میلوں، فٹبال میچز یا بڑے کنسرٹس کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔

یہ کہنا کہ “بار میں بیئر مہنگی ہوتی ہے” ان تمام لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو ٹیکس ادا کرتے ہیں، کاروبار چلاتے ہیں یا اپنی تنخواہوں سے کٹوتیاں برداشت کرتے ہیں۔ برسوں کی نرمی اور چشم پوشی نے اس غیر قانونی نظام کو مضبوط کیا، یہاں تک کہ جب 2017 میں ہیروئن دوبارہ سامنے آئی تو سڑکوں پر پہلے سے موجود نیٹ ورک اس کے پھیلاؤ کے لیے تیار تھا۔

2012 میں کنسرٹ ہالز کی ایک تنظیم اور مقامی کمیونٹیز نے مل کر ایک مہم چلائی تھی تاکہ سڑکوں پر بیئر خریدنے کے سماجی اور صحت کے خطرات کو اجاگر کیا جا سکے۔ مگر ایک سیاسی جماعت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ “غربت کو مجرم قرار دینے” کے مترادف ہے۔ وقت کے ساتھ وہ جماعت تو ختم ہو گئی، مگر یہ غیر قانونی کاروبار آج بھی جاری ہے اور اس سے چند افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ مجموعی طور پر معاشرہ نقصان اٹھا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے