اسپین میں تارکینِ وطن کی رجولرائزیشن: ایک ہفتے میں 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد درخواستیں موصول
Screenshot
میڈرڈ/ وزارتِ شمولیت، سوشل سکیورٹی اور مہاجرت نے اعلان کیا ہے کہ اسپین میں غیر معمولی رجولرائزیشن کے عمل کے آغاز کے پہلے ہی ہفتے میں 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں آن لائن اور بالمشافہ دونوں طریقے شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق یہ عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور تمام اندازوں پر پورا اتر رہا ہے۔ اب تک 30 اپریل تک کے لیے 55 ہزار اپائنٹمنٹس بھی جاری کی جا چکی ہیں اور کسی قسم کے بڑے مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید برآں، سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مہاجرت اور فیڈریشن آف میونسپلٹیز اینڈ پروونسز (FEMP) کے درمیان ایک معاہدہ طے پانے والا ہے، جس کا مقصد اس عمل میں تکنیکی تعاون اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا ہے۔
وزارت نے بلدیاتی اداروں سے مکمل تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اپنائی جانے والی کامیاب حکمت عملیوں کو دیگر شہروں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان افراد کو زیادہ حقوق دینا ہے جو پہلے سے اسپین میں مقیم ہیں، اور اس کے ساتھ ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوں گی جو مقامی ترقی اور فلاح و بہبود میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اس عمل میں غیر ملکی امور سے متعلق رجسٹرڈ معاون ادارے (RECEX) بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر درخواست دہندگان کی کمزور معاشی حالت کی تصدیق میں، تاکہ بلدیاتی اداروں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس وقت 300 سے زائد ادارے اس نظام میں رجسٹرڈ ہیں۔
یاد رہے کہ وزراء کونسل نے گزشتہ ہفتے اس غیر معمولی ریگولرائزیشن کے لیے شاہی فرمان کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اسپین میں پہلے سے مقیم افراد کو ایک سال کے لیے کسی بھی شعبے اور علاقے میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اندازہ ہے کہ اس سے تقریباً 5 لاکھ افراد مستفید ہو سکتے ہیں۔
درخواستیں جمع کرانے کا عمل 16 اپریل سے آن لائن شروع ہوا تھا، جبکہ 20 اپریل سے بالمشافہ درخواستوں کے لیے وقت دینا شروع کیا گیا۔ دونوں طریقوں سے درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔