اٹلی میں غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کے لیے متنازعہ قانون منظور
Screenshot
اٹلی کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ایوانِ نمائندگان اٹلی نے ایک نیا سیکیورٹی ڈیکری منظور کر لیا ہے جس کا مقصد غیر قانونی مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اس قانون نے سیاسی، قانونی اور سماجی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے، جرائم کی روک تھام اور غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون ریاست کو مزید مؤثر اختیارات فراہم کرے گا تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس قانون کی ایک متنازعہ شق کے تحت ابتدا میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ ایسے وکلا کو 615 یورو تک معاوضہ دیا جائے گا جو مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے مقدمات کو ترجیح دیں۔ تاہم اس تجویز پر شدید تنقید سامنے آئی، جس کے بعد حکومت نے آخری وقت میں ترمیم کرتے ہوئے یہ شرط شامل کی کہ ادائیگی صرف اس وقت کی جائے گی جب مکمل قانونی عمل مکمل ہو جائے۔ مزید برآں، اس سہولت کو صرف وکلا تک محدود رکھنے کے بجائے سماجی تنظیموں اور ثالثی کردار ادا کرنے والوں تک بھی توسیع دی گئی ہے۔
اٹلی کے صدر Sergio Mattarella نے بھی اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا اور حکومتی نمائندوں کو اس حوالے سے اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ قانونی ماہرین اور وکلا تنظیموں کا کہنا ہے کہ مالی ترغیبات وکلا کی غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ آزادی کو متاثر کر سکتی ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ قانون 162 ووٹوں کی حمایت سے منظور ہوا جبکہ 102 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ قانون کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً پارلیمنٹ میں مشہور انقلابی نغمہ Bella Ciao گایا، جسے نائب وزیر اعظم Matteo Salvini نے غیر سنجیدہ اور نامناسب رویہ قرار دیا۔
اس ڈیکری میں دیگر اقدامات بھی شامل ہیں، جن میں چاقو جیسے ہتھیاروں پر سخت کنٹرول اور مشتبہ افراد کو 12 گھنٹے تک احتیاطی حراست میں رکھنے کی اجازت دینا شامل ہے۔ مجموعی طور پر یہ قانون اٹلی میں امیگریشن پالیسی کو مزید سخت بنانے کی کوشش ہے، تاہم اس کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔