پیدروسانچزکا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ معطل کرنے پر زور، یورپی اتحاد کی کمی پر تنقید
Screenshot
ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے ایک بار پھر یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان ایسوسی ایشن معاہدہ معطل کرنے کی تجویز پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر یورپی ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونا یورپی یونین کی “ساکھ” اور “قانونی حیثیت” کو کمزور کر رہا ہے۔
قبرص کے شہر نیکوسیا میں یورپی رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف بیرونی دنیا بلکہ خود یورپی معاشروں کے سامنے بھی یونین کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے حوالے سے یورپی رویہ “دوہرا معیار” ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی شق نمبر 2 میں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے احترام کی بات کی گئی ہے، لیکن ان کے مطابق اسرائیل لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں ان اصولوں کی پاسداری نہیں کر رہا۔
سانچیز کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے 27 ممالک کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ یوکرین کے معاملے پر تو سب متحد ہیں، مگر لبنان اور فلسطین کے معاملے پر ایسا اتحاد نظر نہیں آتا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک اس تجویز کے حق میں ہیں جبکہ کچھ مخالفت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے یورپی یونین کی پوزیشن کمزور اور اس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ہسپانوی وزیرِ خارجہ خوسے مینوئل البارئیس بھی یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، تاہم جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے۔
آخر میں سانچیز نے کہا کہ یورپ ایک امن کا منصوبہ ہے، اس لیے اسے بین الاقوامی قانون اور اصولوں کا دفاع کرنا چاہیے، ورنہ طاقت کا قانون دنیا کو مزید غیر محفوظ اور غیر مستحکم بنا دے گا۔