نیٹو میں رکن ممالک کو نکالنے یا معطل کرنے کی کوئی شق نہیں، اسپین کے خلاف امریکی اقدام کی خبروں کی تردید

Screenshot

Screenshot

نیٹو نے واضح کیا ہے کہ اس کے معاہدے میں کسی بھی رکن ملک کو اتحاد سے معطل یا خارج کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔ یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ، ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث اسپین کو معطل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل میں ان اتحادی ممالک کو سزا دینے کے اقدامات تجویز کیے گئے تھے جو امریکی مہم کی حمایت میں ناکام رہے۔ اس ای میل میں برطانیہ کے فاک لینڈ جزائر پر دعوے کے حوالے سے امریکی مؤقف پر بھی نظرثانی کی تجویز شامل تھی، جن پر ارجنٹینا بھی دعویٰ کرتا ہے۔

نیٹو کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتحاد کے بانی معاہدے میں کسی بھی رکن کی معطلی یا اخراج کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ ادھر اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز نے بھی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

بی بی سی نے اس معاملے پر پینٹاگون اور برطانوی حکومت سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی نیٹو اتحادیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا اور ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کر دی۔ اسپین نے اپنی سرزمین پر موجود فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

پیدرو سانچیز نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اسپین ای میلز کی بنیاد پر نہیں بلکہ سرکاری دستاویزات اور امریکی حکومت کے باضابطہ مؤقف کے مطابق کام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپین اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل تعاون کا حامی ہے، مگر ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیر اعظم Keir Starmer نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ یا امریکی ناکہ بندی میں مزید شمولیت برطانیہ کے مفاد میں نہیں۔

امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے یورپی اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ کو صرف بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ ان کے لیے زیادہ اہم ہے۔

ادھر اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے متحد رہیں، جبکہ جرمنی نے بھی واضح کیا کہ اسپین کی رکنیت پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

یاد رہے کہ فاک لینڈ جزائر، جنہیں ارجنٹینا مالویناس کہتا ہے، برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان 1982 میں جنگ کا باعث بنے تھے، اور آج بھی دونوں ممالک ان پر دعویٰ رکھتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے