واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ، ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریب سے ہنگامی طور پر نکال لیا گیا

Screenshot

Screenshot

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہفتہ کے روز وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران اس وقت ہنگامی طور پر نکال لیا گیا جب ایک مسلح شخص نے حملے کی کوشش کی، جسے امریکی سیکیورٹی ادارے United States Secret Service نے ناکام بنا دیا۔ واقعے میں ایک اہلکار زخمی ہوا تاہم اس کی جان کو خطرہ نہیں۔

حکام نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے، جس کی شناخت 31 سالہ کیلیفورنیا کے رہائشی اور استاد کول ایلن کے نام سے ہوئی ہے۔ امریکی صدر نے اسے “اکیلا حملہ آور” اور “سنگین ذہنی مسائل کا شکار شخص” قرار دیا۔ امریکی پراسیکیوشن کے مطابق ملزم پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں آتشیں اسلحے کا استعمال اور ایک وفاقی اہلکار پر مسلح حملہ شامل ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر مسلح حالت میں پہنچا اور لابی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ اس دوران United States Secret Service کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

فائرنگ کی آوازیں ہال تک سنائی دیں جس کے بعد تقریب میں موجود صدر، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور کابینہ کے دیگر ارکان کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ شرکاء کو بھی ہال خالی کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ بعض صحافیوں کو حفاظتی اقدام کے طور پر میزوں کے نیچے چھپنا پڑا۔

واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ کارروائی انتہائی تیز اور مؤثر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “چند ہی سیکنڈز میں ہمیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا”۔

صدر نے عندیہ دیا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کا عشائیہ آئندہ 30 دنوں میں دوبارہ منعقد کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بلٹ پروف اور جدید سیکیورٹی سے لیس نئے بال روم کی تعمیر کی منظوری پر بھی زور دیا، جو اس وقت عدالتی حکم کے باعث رکی ہوئی ہے۔

واقعے پر عالمی رہنماؤں نے بھی ردعمل دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ارجنٹینا کے صدر Javier Milei نے ٹرمپ کی خیریت پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ کیلیفورنیا کے گورنر Gavin Newsom نے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار Kaja Kallas نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ صحافت کے لیے منعقدہ تقریب کو خوف کی فضا میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے