کیا سپریم کورٹ آئندہ ہفتے غیر معمولی امیگریشن ریگولرائزیشن روک دے گی؟13 مئی کو سماعت مقرر
Screenshot
میڈرڈ/ سپریم کورٹ نے 13 مئی کو سماعت مقرر کی ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا حکومت کی جانب سے شروع کی گئی غیر معمولی امیگریشن ریگولرائزیشن کو عارضی طور پر روکا جائے یا نہیں۔ عدالت کا انتظامی شعبہ (Contencioso Administrativo) اس بات کا جائزہ لے گا کہ حتمی فیصلے تک اس عمل کو معطل کیا جائے یا جاری رہنے دیا جائے۔
یہ درخواست مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جن میں HazteOir، دیگر سماجی تنظیمیں، Vox، اور Comunidad de Madrid شامل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام “قانونی دھوکہ” ہے اور اگر اسے نافذ کیا گیا تو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا جسے بعد میں عدالتی فیصلے سے درست نہیں کیا جا سکے گا۔
عدالت نے 16 اپریل کو اس درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے قبول کیا تھا اور حکومت سے 20 دن کے اندر مکمل انتظامی ریکارڈ طلب کیا تھا۔ تاہم اس سے پہلے عدالت فوری عارضی حکم دینے کی درخواست مسترد کر چکی ہے، بغیر فریقین کو سنے۔
واضح رہے کہ Consejo de Ministros نے 14 اپریل 2026 کو ایک شاہی فرمان منظور کیا تھا، جس کے تحت تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا عمل شروع کیا گیا۔ یہ پروگرام 16 اپریل سے نافذ ہے اور اس کے تحت وہ افراد رہائش اور کام کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں جو یکم جنوری 2026 سے پہلے اسپین میں موجود ہوں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔