بہار میں تھکن کیوں زیادہ محسوس ہوتی ہے؟ اور اسے خون کی کمی، تھائرائیڈ یا ڈپریشن سے کیسے الگ پہچانیں
Screenshot
ہر سال بہار کے آغاز پر بہت سے لوگ تھکن، توجہ میں کمی اور موڈ کی خرابی کو “بہار کی کمزوری” (Astenia primaveral) سے جوڑتے ہیں۔ مگر طبی نقطۂ نظر سے اسے کوئی باقاعدہ بیماری نہیں مانا جاتا، بلکہ یہ عارضی اور غیر مخصوص علامات کا مجموعہ ہے۔
جدید سائنسی تحقیق اس بات پر سوال اٹھاتی ہے کہ آیا “بہار کی کمزوری” واقعی کوئی موسمی بیماری ہے بھی یا نہیں۔ 2026 میں جرنل آف سلیپ ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سال کے مختلف موسموں میں تھکن، نیند یا دن کے وقت غنودگی میں کوئی خاص فرق نہیں پایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زیادہ تر ایک سماجی یا نفسیاتی تصور ہو سکتا ہے، نہ کہ حقیقی جسمانی مسئلہ۔
عام علامات
بہار میں محسوس ہونے والی اس کیفیت کی عام علامات میں شامل ہیں:
- جسمانی اور ذہنی تھکن
- دن کے وقت نیند آنا
- توجہ میں کمی
- چڑچڑاپن
- نیند میں خلل
- بھوک میں کمی
- موڈ کا خراب ہونا
یہ علامات عموماً ہلکی ہوتی ہیں اور خود ہی چند ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بغیر کسی حقیقی کمی کے وٹامنز یا منرلز (جیسے وٹامن سی، بی کمپلیکس یا میگنیشیم) لینے سے توانائی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود ہر سال بہار میں ان مصنوعات کی فروخت بڑھ جاتی ہے، جو زیادہ تر عوامی تاثر کا نتیجہ ہے۔
اگر یہ علامات دو سے تین ہفتوں سے زیادہ جاری رہیں، شدت اختیار کریں یا روزمرہ زندگی کو متاثر کریں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ کسی اور بیماری کی علامت ہو سکتی ہیں۔
1. خون کی کمی (انیمیا):
- علامات: پیلا پن، سانس پھولنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا
- تشخیص: خون کے ٹیسٹ سے
2. تھائرائیڈ کا مرض (ہائپوتھائرائیڈزم):
- علامات: شدید تھکن، نیند، سردی کا زیادہ احساس، موڈ کی خرابی
- تشخیص: خون میں TSH ٹیسٹ
3. ڈپریشن:
- علامات: دلچسپی کا ختم ہونا، مایوسی، سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونا
- خاص بات: یہ خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا اور باقاعدہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے
ماہرین کے مطابق، تھکن کی شکایت لے کر آنے والے مریضوں میں ڈپریشن ایک عام وجہ ہے، جو تقریباً 18 سے 20 فیصد کیسز میں پایا جاتا ہے۔