بارسلونا میں ہزاروں اساتذہ کا مارچ، تنخواہوں کے معاملے پر یونینز اور حکومت آمنے سامنے
Screenshot
منگل کے روز کاتالونیا بھر میں جاری ہڑتال کے دوران ہزاروں اساتذہ بارسلونا کی مرکزی سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ احتجاج USTEC، سیکنڈری اسکول ٹیچرز، CGT اور Intersindical یونینز کی جانب سے بلایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد تقریباً 26 ہزار تھی، جبکہ منتظمین نے یہ تعداد 80 ہزار بتائی۔ مارچ کا آغاز پلاسا ارکینااونا سے ہوا اور مظاہرین پلاسا سانت جاؤئیمے میں واقع حکومتی ہیڈکوارٹر تک پہنچے۔
اساتذہ زیادہ تعلیمی وسائل، خاص طور پر خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کے لیے معاونت، کم کلاس سائز اور تنخواہوں میں مزید اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو کہ حکومت اور CCOO و UGT یونینز کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے زیادہ ہو۔
USTEC کی ترجمان ایولاندا سیگورا نے خبردار کیا کہ اگر وزیر تعلیم ایستر نیوبو جمعرات کے اجلاس میں کوئی ٹھوس پیشکش نہیں کرتیں تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے کا الزام بھی لگایا۔
دوسری جانب کاتالان حکومت کی ترجمان سلویا پانےکے نے کہا کہ “وسائل محدود ہیں” اور یونینز کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے تعلیم کے شعبے میں 2 ارب یورو کی غیر معمولی سرمایہ کاری کی ہے اور مجموعی بجٹ 8 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے۔
احتجاج کے دوران اساتذہ نے بارسلونا اور اس کے اطراف کی کئی بڑی سڑکیں بلاک کر دیں، جس سے ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔ بعد میں یہ رکاوٹیں بتدریج ختم کر دی گئیں۔
وزیر تعلیم ایستر نیوبو نے یونینز کے تقریباً 400 یورو ماہانہ اضافے کے مطالبے کو “انتہائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے ہی چار سال میں تقریباً 200 یورو ماہانہ اضافے کی منظوری دے چکی ہے۔
تاہم یونینز کا کہنا ہے کہ ہڑتال ختم کرنے کے لیے 400 سے 500 یورو ماہانہ اضافہ ضروری ہے، جسے مرحلہ وار نافذ کیا جا سکتا ہے۔
اساتذہ نے شکایت کی کہ کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے اور وسائل کی کمی کے باعث تعلیمی نظام دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر انکلوژن (شمولیتی تعلیم) کے شعبے میں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 32 فیصد اساتذہ نے ہڑتال میں حصہ لیا، جبکہ یونینز کے مطابق یہ شرح 70 فیصد تک رہی۔
یہ ہڑتال تین مجوزہ احتجاجی دنوں میں سے پہلا دن ہے، جبکہ آئندہ ہڑتال 5 جون کو ہوگی۔ مزید علاقائی ہڑتالیں اور 20 مئی کو نرسری اسکولوں کی ہڑتال بھی متوقع ہے۔