سانچیز کی اجتماعی ریگولرائزیشن روکنے سے “مفادِ عامہ کو شدید نقصان” ہوگا، حکومتی وکلاء

Screenshot

Screenshot

ریاستی وکالت (Abogacía del Estado)، جو وزیرِاعظم پیدروسانچز کی حکومت کی نمائندگی کرتی ہے، نے تارکینِ وطن کی غیر معمولی (اجتماعی) قانونی حیثیت دینے کے عمل کو عارضی طور پر روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام کی معطلی سے “مفادِ عامہ کو شدید نقصان” پہنچے گا۔

اپنے دلائل میں، جو کہ Tribunal Supremo کی تیسری انتظامی عدالت میں جمع کروائے گئے، ریاستی وکالت نے کہا کہ یہ اقدام ایک حقیقی سماجی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے اور اسی حقیقت کا جواب ہے۔

مزید یہ کہ تنظیم Hazte Oír کی درخواست کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا، کیونکہ اس کے مطابق یہ تنظیم کوئی ایسا “براہِ راست اور مخصوص مفاد” ثابت نہیں کر سکی جو اس قانون سے متاثر ہوتا ہو، اس لیے اسے قانونی حیثیت حاصل نہیں۔

ریاستی وکالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس عمل کے تحت دی جانے والی منظوری محض انتظامی نوعیت کی ہے، یعنی یہ کوئی مستقل یا ناقابلِ تبدیلی حقوق پیدا نہیں کرتی، جیسا کہ درخواست گزار تنظیم نے دعویٰ کیا تھا۔

حکومت نے اس بات کی بھی تردید کی کہ امیگریشن قوانین میں کی گئی ترمیم سے عوامی خدمات پر کوئی غیر معمولی بوجھ پڑے گا، اور کہا کہ اس عمل کے درخواست دہندگان پہلے ہی یکم جنوری 2026 سے قبل اسپین میں موجود تھے۔

مزید برآں، حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کو عوامی حمایت حاصل ہے، کیونکہ یہ ایک عوامی قانون سازی اقدام (ILP) سے نکلا ہے جسے 6 لاکھ سے زائد دستخطوں کی حمایت حاصل ہوئی، اور پارلیمنٹ میں بھی اسے واضح اکثریت (310 ووٹ کے حق میں اور 33 مخالفت میں) ملی تھی۔ بعد ازاں جب یہ معاملہ رُک گیا تو حکومت نے اسے ضابطہ جاتی راستے سے نافذ کیا۔

اب Tribunal Supremo بدھ کے روز اس معاملے پر سماعت کرے گا تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا اس اجتماعی ریگولرائزیشن کو عارضی طور پر روکا جائے یا نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے