غزہ مشن کے لیے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کا دوبارہ آغاز، اسرائیلی کارروائی کے چند ہفتوں بعد نئی روانگی
Screenshot
گلوبل صمود فلوٹیلا نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اس جمعرات کو ایک بار پھر غزہ کی جانب روانہ ہوگا۔ اس مشن میں 54 کشتیاں اور 500 سے زائد افراد شریک ہوں گے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل اسرائیلی حکام نے اسی نوعیت کی ایک کوشش کو روک دیا تھا۔
کارکن سیف ابو کشیک، جنہیں اسرائیلی کارروائی کے بعد دس دن تک جیل میں رکھا گیا تھا، نے بتایا کہ یہ قافلہ ترکی کے شہر مارماریس کی بندرگاہ سے روانہ ہوگا۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا “ہمیں ان خطرات کا مکمل اندازہ ہے جن کا ہمیں سامنا ہو سکتا ہے، لیکن کچھ نہ کرنے کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔”
یہ فلوٹیلا “یومِ نکبہ” سے ایک دن پہلے اپنی روانگی کا آغاز کرے گا، جو 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطینیوں کی بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
29 اپریل کو اسرائیلی حکام نے یونان کے قریب گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا تھا، حالانکہ یہ قافلہ دو ہفتے پہلے بارسلونا سے اس مقصد کے ساتھ روانہ ہوا تھا کہ غزہ کی ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔
اس کارروائی کے دوران سیف ابو کشیک اور برازیل کے کارکن تھیاغو آویلا کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جنہیں دس دن بعد رہا کر دیا گیا۔
برازیل سے ویڈیو کے ذریعے بات کرتے ہوئے آویلا نے کہا کہ ان کی قید “فلسطینیوں کی تکالیف کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں” اور انہوں نے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ “نیتن یاہو جیسے جنگی مجرموں سے خوفزدہ نہ ہوں۔”
سیف ابو کشیک نے بھی اسرائیل پر “فلسطینی عوام کے خلاف سست رفتار نسل کشی” کا الزام عائد کیا اور یورپی یونین اور امریکہ کو اسرائیلی حکومت کی حمایت پر تنقید کا نشانہ بنایا، جس کی قیادت بینجمن نیتن یاہو کر رہے ہیں۔