جج پینادو نے بیگونیا گومیز کو ملزم قرار دے دیا، 9 جون کو ابتدائی سماعت میں پیش ہونے کا حکم
Screenshot
جج خوان کارلوس پینادو نے ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز کی اہلیہ بیگونیا گومیز کو باضابطہ طور پر ملزم قرار دیتے ہوئے انہیں آئندہ 9 جون کو ایک ابتدائی سماعت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
جج کے فیصلے کے مطابق، گومیز کے ساتھ ان کی معاون کرستینا الواریز اور تاجر خوان کارلوس بارابیس کو بھی اس مقدمے میں ملزم کے طور پر اسی سماعت میں طلب کیا گیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ تینوں ملزمان ذاتی طور پر پیش ہوں، اور خبردار کیا ہے کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو انہیں زبردستی عدالت میں لایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ سماعت کے دوران ایسے حفاظتی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں جن کا مقصد انصاف سے بچنے کے ممکنہ خطرے کو روکنا ہے۔
جج نے اس سے پہلے یہ بھی تجویز دی تھی کہ بیگونیا گومیز کے خلاف مبینہ طور پر سرکاری فنڈز میں خردبرد، اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال، کاروباری بدعنوانی اور برانڈ کے غلط استعمال جیسے جرائم پر عوامی جیوری کے ذریعے مقدمہ چلایا جائے۔
جج کے مطابق ممکنہ سزاؤں کی سنگینی کے باعث یہ خدشہ موجود ہے کہ ملزمان میں سے کوئی عدالت سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اس سماعت میں استغاثہ (پراسیکیوشن)، عوامی مدعی، اور میڈرڈ کی کمپلوٹینے یونیورسٹی بھی بطور فریق شریک ہوں گے۔
بیگونیاگومیز نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر مقدمہ عدالت تک پہنچتا ہے تو انہیں بری کیا جائے، کیونکہ ان کے خلاف الزامات کسی جرم پر مبنی نہیں ہیں اور یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الزامات شروع سے ہی ٹھوس شواہد سے محروم رہے ہیں اور استغاثہ کے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں جو ان پر عائد جرائم کو ثابت کر سکیں۔
ان کے وکیل انتونیو کاماچو نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ دراصل سیاسی مقاصد کے لیے چلایا جا رہا ہے، اور اپیل دائر کی ہے کہ اس کیس کو جیوری ٹرائل میں نہ لے جایا جائے۔
میڈرڈ کے پراسیکیوٹر آفس نے بھی عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس کیس کو ختم کر دیا جائے کیونکہ ان کے مطابق زیرِ تفتیش اقدامات کسی مجرمانہ فعل کے زمرے میں نہیں آتے۔
استغاثہ نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام الزامات ختم کیے جائیں اور تمام ملزمان کے خلاف کارروائی بند کر دی جائے۔ اگر مقدمہ چلتا بھی ہے تو استغاثہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تینوں ملزمان کی بریت کی درخواست کرے گا۔
دوسری جانب عوامی مدعیوں نے بیگونیا گومیز کے لیے 24 سال تک قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی ملک چھوڑنے پر پابندی اور پاسپورٹ ضبط کرنے کی بھی درخواست کی ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ فرار کا واضح خطرہ موجود ہے۔
اسی طرح ان کی معاون کرستینا الواریز کے لیے 22 سال اور تاجر بارابیس کے لیے 6 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مطالبات مختلف تنظیموں جیسے Hazte Oír، ووکس، مانوس لیمپیاس، Iustitia Europa اور دیگر کی جانب سے کیے گئے ہیں۔