اسپین میں مہاجرین کے مقابلے میں مقامی افراد زیادہ بیمار، زیادہ دوائیں اور زیادہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں

Screenshot

Screenshot

اسپین میں پیدا ہونے والے شہری مہاجرین کے مقابلے میں صحت کے نظام کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ 18 فیصد سے 51 فیصد تک زیادہ پرائمری ہیلتھ کیئر (بنیادی طبی سہولیات) سے رجوع کرتے ہیں، 32 فیصد سے 69 فیصد تک زیادہ ادویات استعمال کرتے ہیں اور 24 فیصد سے 38 فیصد تک زیادہ دائمی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ بات وزارتِ صحت کی رپورٹ “اسپین میں مہاجر آبادی کی صحت کی حالت اور صحت کے نظام کے استعمال” سے سامنے آئی ہے، جس میں اسپین میں پیدا ہونے والوں کا موازنہ یورپی یونین، افریقہ، لاطینی امریکہ، مشرقی بحیرہ روم اور دیگر خطوں سے آنے والے افراد سے کیا گیا ہے۔

وزیر صحت مونیکا گارسیا کے مطابق، اسپین کے صحت کے نظام کا اصل چیلنج مہاجرین نہیں بلکہ آبادی کا بڑھاپا، اوسط عمر میں اضافہ، دائمی بیماریوں میں اضافہ اور مسلسل طبی نگہداشت کی بڑھتی ضرورت ہے۔

مہاجرین کو صحت کی سہولیات تک دیر سے رسائی
 تحقیق کے مطابق مہاجرین صحت کی سہولیات کم استعمال کرتے ہیں، حتیٰ کہ جب انہیں رسائی حاصل بھی ہو۔ اس کی وجہ ماضی کی رکاوٹیں ہیں، جس کے باعث انہیں علاج تک محدود، غیر مستقل اور اکثر دیر سے رسائی ملتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایمرجنسی سروسز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 21 بڑی بیماریوں میں سے 16 میں اسپین میں پیدا ہونے والوں کی شرح زیادہ ہے۔ کچھ بیماریوں جیسے بے چینی، چربی کے مسائل، سانس کی نالی کے انفیکشن اور دمہ میں یہ فرق 20 فیصد تک ہے۔
 مقامی آبادی میں ایک یا زیادہ دائمی بیماریوں کی شرح 472.3 فی ہزار افراد ہے، جو دیگر خطوں کے مقابلے میں 24 فیصد سے 38 فیصد زیادہ ہے۔ تین یا اس سے زیادہ بیماریوں کے کیسز میں یہ فرق 65 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

 مقامی افراد کی ادویات کے استعمال کی شرح بھی زیادہ ہے، جو افریقی نژاد افراد سے 62.7 فیصد اور لاطینی امریکیوں سے تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔

 صرف چند بیماریوں میں مہاجرین کی حالت خراب ہے، جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماری۔

 رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مہاجرین عموماً ابتدا میں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں، جسے “ہیلتھی امیگرنٹ ایفیکٹ” کہا جاتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ فائدہ کم ہو جاتا ہے، جس کی وجوہات میں ناقص رہائش، غیر صحت مند خوراک، مشکل کام کے حالات اور سماجی مسائل شامل ہیں، خاص طور پر خواتین میں یہ اثر زیادہ ہوتا ہے۔

 مہاجرین کو قانونی، انتظامی اور زبان کی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بروقت تشخیص اور علاج سے محروم رہ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب کے لیے یکساں صحت کی سہولت فراہم کرنا نہ صرف بہتر ہے بلکہ کم خرچ بھی ثابت ہوتا ہے، جبکہ صرف ایمرجنسی پر انحصار کرنا زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔

مزید یہ کہ مہاجرین معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور ان کی مالی شراکت ان کے علاج کے اخراجات سے زیادہ ہوتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے