پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کوئی ایونٹ یا احتجاج کا اعلان ہو، اس میں بھرپور حصہ لیں، ملک محمد شہباز
بارسلونا/پی ٹی آئی اسپین کے انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد جیتنے والے پینل کی پہلی مشاورتی اور تمام ممبران ،کارکنان کے شکریہ ادا کرنے کی میٹنگ، جس کی صدارت صدارت صدر تحریک انصاف سپین ملک محمد شہباز نے کی۔میٹنگ میں سابق صدر تحریک انصاف میڈرڈ زاہد قیصر کی خصوصی شرکت کے علاوہ انٹرا پارٹی الیکشن میں اہم کردار ادا کرنے والے ٹائیگرز نے شرکت کی

نومنتخب صدر پی ٹی آئی اسپین ملک محمد شہباز نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا میں بطور صدر آپ سب سے گزارش کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ سب اس ذمہ داری کو سمجھیں گے۔ اسپین بھر میں جتنے بھی ساتھی ہیں، سب سے درخواست ہے کہ جب بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کوئی ایونٹ یا احتجاج کا اعلان ہو، اس میں بھرپور حصہ لیں، چاہے وہ جانی ہو یا مالی۔

تنظیم سازی کے حوالے سے میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی ٹیم میں انہی لوگوں کو شامل کریں گے جو واقعی وقت دے سکیں۔ ماضی میں یہ مسئلہ رہا کہ جلدی میں فیصلے کیے گئے، لوگوں کو شامل تو کر لیا گیا مگر بعد میں نہ وہ میٹنگز میں آئے اور نہ ہی ایونٹس میں شریک ہوئے۔ اس سے تنظیم کو نقصان ہوا۔
یہ پارٹی سب کی ہے، آپ سب کی ہے، اور ہم ہر ایک کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد خود یہ سوچے کہ کیا وہ واقعی پارٹی کو وقت دے سکتا ہے اور عملی طور پر ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔

اگر کسی کے پاس مالی طور پر زیادہ تعاون کی گنجائش نہیں بھی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، ہم اسے بھی اپنے ساتھ شامل کریں گے۔ اصل چیز نیت، وقت اور لگن ہے۔ ہر وہ شخص جو مخلص ہے، وہ ہمارا بھائی ہے اور ہمارے ساتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشاورت کا عمل انشاء اللہ جاری رہے گا۔ ہمارا پلان ہے کہ ہر مہینے باقاعدہ میٹنگ کی جائے۔ آج ہم زیادہ لوگ ہیں، لیکن آئندہ ممکن ہے ہم 20 سے 30 منتخب ساتھیوں کے ساتھ میٹنگ کریں تاکہ کام زیادہ مؤثر طریقے سے آگے بڑھ سکے۔ جن لوگوں سے ہم مشاورت کر رہے ہیں اور جو ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں، ہم انہیں ضرور اپنے ساتھ شامل کریں گے اور مل کر بہتر انداز میں کام کریں گے۔

میری گزارش ہے کہ اگر آپ کسی میٹنگ یا ذمہ داری کے لیے ہاں کرتے ہیں تو اسے پورا کریں۔ اگر آپ وقت نہیں دے سکتے تو براہِ کرم پارٹی کو جوائن نہ کریں یا صرف رسمی مبارکباد تک محدود نہ رہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو واقعی وقت نکال سکیں، خود بھی آئیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لائیں، خاص طور پر مشکل وقت میں۔
آپ سب جانتے ہیں کہ مشکل وقت میں پارٹی کیسے کھڑی رہی اور ہمارے لوگوں نے کس طرح حالات کا سامنا کیا۔ آج ہم دنیا بھر کے مسائل، جیسے کشمیر اور فلسطین، کی بات کرتے ہیں، لیکن اگر ہم اپنے ہی ملک میں اپنے لوگوں کو ان کا بنیادی حق، یعنی ووٹ کا حق، نہ دے سکیں تو پھر دوسروں کے لیے آواز اٹھانے کا کیا فائدہ؟

اس لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے اپنے اندر انصاف قائم کریں، اپنے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کریں، اور پھر مضبوط ہو کر دوسروں کے لیے بھی آواز بلند کریں۔
اندرونِ ملک الیکشن کے دوران امیدواروں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہیں ان پر حملے ہو رہے ہیں، کہیں ان کی گاڑیوں میں دھماکے کیے جا رہے ہیں، کہیں انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، اور یہاں تک کہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔ بزرگ رہنماؤں کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے، جن میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت شامل ہے، جن کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
ہزاروں کارکنان ایسے ہیں جنہیں مختلف مقدمات اور سزاؤں کا سامنا ہے، اور وہ یہ مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی یہی کہتا ہوں کہ انشاء اللہ جب یہ کارکن اپنی سزائیں مکمل کر کے واپس آئیں گے تو یہ پہلے سے زیادہ مضبوط، پختہ اور باحوصلہ بن کر سامنے آئیں گے۔

یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو طاقت یا دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، نہ پہلے ممکن تھا اور نہ آئندہ ہوگا۔ سیاست کا اصل راستہ صرف عوام کا فیصلہ اور جمہوری عمل ہے، اور یہی اصول ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔
یہ جو صورتحال ہے، یہ صرف پاکستان تحریک انصاف کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا مسئلہ ہے۔ جو ظلم اور ناانصافی ہو رہی ہے، وہ کسی ایک سیاسی جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے تحت ہو رہی ہے جس کے پیچھے طاقتور عناصر موجود ہیں۔ اس کا نقصان صرف ایک پارٹی کو نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کو ہو رہا ہے۔
ہماری جدوجہد اسی لیے جاری ہے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی آئے، جیسا کہ عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ عوام کو انصاف ان کی دہلیز پر ملنا چاہیے۔ یہی وژن ہم سب کا ہے، اور اسی کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں۔
بطور صدر، میں تمام اوورسیز پاکستانیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے تمام چاہنے والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ جب بھی پارٹی کی طرف سے کوئی کال دی جائے، چاہے وہ احتجاج ہو یا کوئی تنظیمی سرگرمی، آپ سب نے اس پر فوری لبیک کہنا ہے۔ ہم آپ سے رابطہ کریں گے اور آپ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
ہماری کوشش یہ ہوگی کہ جب بھی ہم نکلیں تو منظم انداز میں، ایک آواز کے ساتھ نکلیں، تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ اوورسیز پاکستانی اپنے ملک میں جاری ناانصافی اور بربریت کے نظام کو قبول نہیں کرتے اور پرامن طریقے سے تبدیلی کے حق میں کھڑے ہیں۔
جس دن پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی یا چوری ہوگی، وہ دن عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ آزادی کے وقت سے لے کر آج تک بہت سے لوگ اس حوالے سے مایوسی کا شکار رہے ہیں۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کا اعتماد اور سوچنے سمجھنے کی قوت بھی متاثر ہوتی ہے۔
راتوں رات جب نتائج آتے ہیں تو کئی جگہوں پر عوام نے خوشیاں منائیں، خاص طور پر وہ نوجوان اور خاندان جن کا سیاست سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن بعد میں ان میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور اصل فیصلہ کہیں اور ہو گیا ہے۔
یہ تاثر بھی موجود ہے کہ طاقتور حلقوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے نتائج پر سوالات اٹھتے ہیں، اور جن لوگوں نے عام آدمی، غریب طبقے اور ملک کے مستقبل کی بات کی ہو، انہیں مشکلات اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں کارکنان اور حامیوں میں مایوسی ضرور پیدا ہوتی ہے۔
لیکن اس کے باوجود ہمارا مؤقف یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد کا راستہ جمہوری ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے سیاسی اور جمہوری مقاصد کے لیے منظم انداز میں آگے بڑھنا ہوگا۔
عمران خان کی سیاسی جدوجہد اور ان کی عوامی حمایت ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ ان کے حامی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے ملک کے کمزور طبقوں کے لیے کام کیا ہے، اسی لیے ان کے حامی آج بھی ان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں اصل ضرورت یہ ہے کہ تمام سیاسی عمل آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے اندر رہ کر آگے بڑھے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک اوورسیز کمیونٹی میں رہنے والے تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، جیسے ٹیکسی سیکٹر، وکلا، دانشور، چھوٹے یا بڑے کاروباری حضرات، اور خصوصاً خواتین، سب اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
ہمیں ایک بار پھر منظم طریقے سے اپنی آواز بلند کرنی ہے۔ اگر ہم یہ جدوجہد مسلسل اور پرامن انداز میں جاری رکھتے ہیں تو انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب تبدیلی آئے گی اور عوام کے مسائل کم ہوں گے۔
ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ ملک میں انصاف، شفافیت اور بہتر نظام قائم ہو۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آنے والا وقت بہتر ہوگا اور حالات میں مثبت تبدیلی آئے گی۔