آسٹریلوی ڈیزائنر نے مردہ چوہوں سے خواتین کا زیرِ لباس تیار کر لیا، کہا“یہ ایک اشتعال انگیزی ہے”
Screenshot
ایک آسٹریلوی ڈیزائنر نے اصلی مردہ چوہوں کو استعمال کرتے ہوئے خواتین کے زیرِ لباس (لنجری) تیار کیے ہیں، جس نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ زیرِ لباس عام طریقے سے پہنے جانے کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ ان کا مقصد صرف لوگوں کو چونکانا اور ردِعمل پیدا کرنا ہے۔
ہر ایک کی قیمت 100 یورو سے زیادہ ہے، لیکن انہیں روزمرہ استعمال کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔
جانوروں کی اصلی کھال سے بنے کپڑوں پر پہلے ہی اخلاقی بحث جاری ہے کہ آیا صرف فیشن کے لیے جانوروں کو مارنا درست ہے یا نہیں۔ یورپی یونین کے کئی ممالک اور امریکا کی کچھ ریاستوں جیسے کیلیفورنیا میں اس پر پابندیاں بھی عائد ہیں۔ تاہم اس ڈیزائنر نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کھال کے بجائے پورے مردہ چوہوں کو استعمال کیا۔
آسٹریلیا کی معروف متبادل اور گوتھک اسٹائل ڈیزائنر “Rat Oddity Gizzard” نے مختلف ڈیزائنز میں چوہوں کا استعمال کیا ہے، مگر عالمی سطح پر توجہ اس وقت ملی جب اس نے مردہ چوہوں کو جوڑ کر خواتین کے زیرِ لباس تیار کیے۔
اس کلیکشن کو “LigeRAT” کا نام دیا گیا، جو انگریزی الفاظ لنجری اور ریٹ (چوہا) کا امتزاج ہے۔ اس نے یہ تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کیں جو تیزی سے وائرل ہو گئیں، تاہم اسے غیر اخلاقی اور غیر صحت بخش قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اپنے دفاع میں ڈیزائنر کا کہنا تھا کہ یہ ملبوسات روزمرہ پہننے کے لیے نہیں بلکہ صرف ایک فنکارانہ اظہار اور اشتعال پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ اس کے مطابق یہ خیال اسے ایک وائرل ریڈٹ پوسٹ اور ایک آرٹ پروجیکٹ سے ملا، جس کے بعد اس نے اپنے انداز میں اسے تیار کیا۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ چوہے ایک آسٹریلوی فارم سے حاصل کیے جاتے ہیں جہاں انہیں جانوروں کی خوراک کے طور پر منجمد کر کے بھیجا جاتا ہے۔ اس کے بقول پورا عمل “انسانی ہمدردی اور احترام” کے ساتھ کیا جاتا ہے اور بایو سیکیورٹی اور اخلاقی اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
ہر ایک لباس تقریباً 190 آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 117 یورو) میں فروخت ہو رہا ہے اور دنیا بھر میں ڈیلیوری کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہیں دھونا ممکن نہیں کیونکہ اس سے چوہے کی جلد اور ساخت خراب ہو سکتی ہے، اور انہیں پہننے کے لیے اضافی اندرونی لباس استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔