اشرف حکیمی پر زیادتی کے الزام میں مقدمہ چلے گا، فرانسیسی عدالتِ اپیل

Screenshot

Screenshot

 فرانسیسی عدالتِ اپیل نے مراکشی فٹبالر اشرف حکیمی کی وہ اپیل مسترد کر دی ہے جس میں انہوں نے اپنے خلاف مقدمہ چلنے سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ اب انہیں زیادتی کے مقدمے میں باقاعدہ عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔

یہ خبر حکیمی کو اس وقت ملی جب وہ امریکہ میں جاری عالمی کپ کے دوران مراکش کی ٹیم کے ساتھ موجود تھے، جہاں ان کی ٹیم کا مقابلہ اسکاٹ لینڈ سے ہونا ہے۔

کھلاڑی کی وکیل فینی کولن نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدعیہ کے بیانات میں تضادات، حقائق چھپانے اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے جیسے نکات کو نظرانداز کیا گیا ہے، حتیٰ کہ اس کی نفسیاتی رپورٹس بھی اس کے بیان میں ابہام ظاہر کرتی ہیں۔

خود حکیمی نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اگر میں مشہور نہ ہوتا تو یہ کیس کبھی نہ بنتا۔ میں نے برسوں خاموشی اختیار کی، لیکن اب میں اس مقدمے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ سچ سامنے آ سکے۔”

اگر ان کے وکلاء سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کرتے تو یہ کیس نانتیئر (فرانس) کی فوجداری عدالت میں چلے گا، تاہم ابھی سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

یہ کیس 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب ایک 24 سالہ خاتون نے الزام لگایا کہ وہ حکیمی کے گھر گئی جہاں انہوں نے اس کی مرضی کے خلاف اسے بوسہ دیا اور جسمانی طور پر ہراساں کیا۔ خاتون کے مطابق وہ بمشکل وہاں سے نکل سکی اور اپنی ایک دوست کو مدد کے لیے بلایا۔

حکیمی نے ابتدا ہی سے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ باہمی رضامندی سے تھا۔

اس مقدمے میں ان کے قریبی دوست اور معروف فٹبالر Kylian Mbappé کو بھی بطور گواہ طلب کیا جا سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے اس رات حکیمی سے بات کی تھی اور ان کا بیان تحقیقات کا حصہ بنایا گیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے