اسپین یورپی یونین کی ترقی میں سرفہرست نہ ہوتا اگر مہاجرین نہ ہوتے : 2022 سے اب تک جی ڈی پی کی نصف ترقی انہی کی مرہونِ منت
Screenshot
اگر اسپین نے حالیہ برسوں میں یورپی یونین کے اوسط سے زیادہ معاشی ترقی حاصل کی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ مہاجرین ہیں، جنہوں نے 2022 سے اب تک ملک کے مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں ہونے والے اضافے کا تقریباً نصف حصہ فراہم کیا ہے۔
نئے آنے والے غیر ملکیوں نے اس عرصے میں تین میں سے دو ملازمتیں سنبھالیں۔ اس کے باوجود، چونکہ وہ زیادہ تر کم پیداواری شعبوں میں کام کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے مجموعی پیداواری صلاحیت کی رفتار کو سست کیا اور اجرتوں کے بڑھنے میں بھی رکاوٹ ڈالی۔
بینک آف اسپین کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران مہاجر آبادی نے جی ڈی پی میں ہونے والی ترقی کا تقریباً نصف (1.7 فیصد پوائنٹس) اور روزگار میں اضافے کا دو تہائی حصہ فراہم کیا۔ فی کس آمدن میں بھی مہاجرین نے اوسط سالانہ ترقی میں 0.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
اس وقت اسپین ایک معاشی توسیعی دور سے گزر رہا ہے، جیسا کہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں ہوا تھا، جس میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم اس بار مہاجرین کی ساخت مختلف ہے، اور لاطینی امریکہ سے آنے والوں کا تناسب زیادہ ہو گیا ہے جبکہ یورپی یونین کے دیگر ممالک سے آنے والوں کا حصہ کم ہوا ہے۔
تعلیم کے لحاظ سے بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے: یونیورسٹی تعلیم یافتہ مہاجرین کی تعداد بڑھی ہے، لیکن کم تعلیم یافتہ افراد بھی موجود ہیں۔ یہ اہم ہے کیونکہ اسپین میں ماضی میں کم ہنر مند افراد کی آمد زیادہ رہی ہے۔
ملازمتوں کے حوالے سے، ان مہاجرین نے بڑی تعداد میں نوکریاں حاصل کیں، مگر اس کا مقامی افراد کے روزگار پر کوئی نمایاں منفی اثر نہیں پڑا۔ عمومی طور پر یہ وہ کام ہیں جو مقامی افراد کم کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ مقامی افراد زراعت، صنعت اور تعمیرات جیسے شعبوں سے نکل کر سروس سیکٹر کی طرف زیادہ جا رہے ہیں۔
معاشی طور پر مہاجرین کا کردار مثبت رہا ہے: انہوں نے کھپت (consumption) اور روزگار میں اضافہ کیا۔ تاہم لیبر مارکیٹ میں ان کی شمولیت نے پیداواری صلاحیت اور اجرتوں کی رفتار کو کسی حد تک کم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب لیبر مارکیٹ میں کارکنوں کی تعداد بڑھتی ہے تو بعض شعبوں میں اجرتوں پر نیچے کی طرف دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہی بات AIReF اور BBVA ریسرچ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زیادہ لیبر سپلائی لاگت کو کم کرتی ہے اور اجرتوں میں تیزی سے اضافہ نہیں ہونے دیتی۔
اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی فی گھنٹہ پیداوار مقامی افراد کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد کم ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ زیادہ تر کم پیداواری شعبوں میں کام کرتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ وہ خود کم صلاحیت رکھتے ہیں۔
البتہ ماہرین کے مطابق مہاجرین مقامی کارکنوں کے لیے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ اس سے وہ زیادہ مہارت اور بہتر معاوضے والی ملازمتوں کی طرف جا سکتے ہیں، اگرچہ اس اثر کو درست طور پر ناپنا مشکل ہے۔