اسپین ویزا اپائنٹمنٹس: اصل مسئلہ کیا ہے اور اس کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے؟تحریر۔۔خالد شہباز چوہان ،صدر،کاتالان فیڈریشن

868cfb6d-219d-441f-9ac0-0e025db1c3e4

پاکستان میں اسپین کے ویزوں کے لیے اپائنٹمنٹس کے حصول میں مشکلات اور مبینہ “سیٹا مافیا” کے حوالے سے گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا، کمیونٹی تنظیموں اور عوامی حلقوں میں اس موضوع پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ فیملی ویزا، ورک ویزا اور اسٹڈی ویزا کے درخواست دہندگان کی بڑی تعداد اس بات کی شکایت کرتی ہے کہ انہیں اپائنٹمنٹ حاصل کرنے میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اپائنٹمنٹس عام درخواست دہندگان کی پہنچ سے پہلے ہی مخصوص ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف کمیونٹی نمائندوں، اسپین میں مقیم پاکستانی تنظیموں، اسپین کے فارن آفس، اسپین ایمبیسی اسلام آباد اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ آن لائن میٹنگز بھی ہو چکی ہیں اور مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم عوام کے سامنے سب سے پہلے یہ حقیقت واضح کرنا ضروری ہے کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ صرف کرپشن یا مافیا نہیں بلکہ طلب اور رسد کے درمیان موجود ایک بہت بڑا فرق بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اپائنٹمنٹس کی تعداد محدود ہے جبکہ درخواست دہندگان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ صورتحال صرف اسپین ایمبیسی تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کی ایمبیسیوں اور قونصل خانوں کو بھی اسی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جہاں امیگریشن، فیملی ری یونین اور ورک ویزوں کی طلب بڑھتی ہے وہاں عملے اور وسائل کی کمی اکثر ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

آج دنیا کے کئی ممالک میں سرکاری اداروں اور امیگریشن دفاتر کو عملے کی کمی کا سامنا ہے۔ یہی صورتحال متعدد ایمبیسیوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جب عملہ محدود ہو تو روزانہ پراسیس ہونے والی درخواستوں اور جاری ہونے والی اپائنٹمنٹس کی تعداد بھی محدود رہتی ہے۔ دوسری جانب درخواست دہندگان کی تعداد مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشیات کا ایک سادہ اصول ہے کہ جب کسی چیز کی طلب زیادہ اور دستیابی کم ہو تو غیر معمولی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہی صورتحال اپائنٹمنٹ سسٹمز میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب ہزاروں افراد محدود تعداد میں دستیاب اپائنٹمنٹس کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہوں تو ایسے حالات میں بعض عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اپائنٹمنٹس تک رسائی میں شفافیت کا فقدان ہے۔

اس مسئلے کا مستقل حل یقیناً عملے میں اضافہ، پراسیسنگ صلاحیت میں بہتری اور مزید وسائل کی فراہمی ہے، لیکن یہ اقدامات فوری طور پر ممکن نہیں ہوتے۔ اسی لیے ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف دے سکیں۔

اسی تناظر میں ایک اہم تجویز سامنے آئی ہے کہ BLS باقاعدہ طور پر اپائنٹمنٹس کھولنے کا دن اور وقت عوام کے لیے پہلے سے اعلان کرے۔ اگر ہر درخواست دہندہ کو معلوم ہو کہ ہر ہفتے یا ہر مخصوص دن کس وقت نئی سلاٹس جاری ہوں گی تو شفافیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں صرف مخصوص افراد ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی اسی وقت سسٹم تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

یہ درست ہے کہ اگر اپائنٹمنٹس کھولنے کا وقت عوامی کر دیا جائے تو ایجنٹ مافیا بھی اپنی کوشش جاری رکھے گی، لیکن اس کے ساتھ ہزاروں عام درخواست دہندگان کو بھی برابری کی بنیاد پر موقع ملے گا۔ اس طرح موجودہ صورتحال کے مقابلے میں زیادہ شفاف اور منصفانہ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔

ایک دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ BLS کی ویب سائٹ اور اپائنٹمنٹ سسٹم کو صرف پاکستان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسپین سے بھی مکمل رسائی دی جائے۔ خاص طور پر فیملی ویزا اور ورک ویزا کے معاملات میں اس کی ضرورت زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ اسپین میں ہزاروں پاکستانی قانونی طور پر مقیم ہیں جو اپنے اہل خانہ کے لیے فیملی ری یونین یا ورک ویزا کے عمل کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

اگر اسپین میں مقیم افراد کو بھی پاکستان کی طرح براہِ راست اپائنٹمنٹ بک کرنے کی سہولت دی جائے تو وہ اپنے اہل خانہ کے لیے خود کوشش کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ غیر ضروری واسطوں اور ایجنٹوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ یہ اقدام خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے آسانی پیدا کرے گا جو برسوں سے اپنے پیاروں کے ساتھ دوبارہ ملنے کے انتظار میں ہیں۔

یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسپین میں قانونی حیثیت حاصل کرنے والے نئے افراد، فیملی ری یونین کے کیسز اور ورک ویزا کی بڑھتی ہوئی طلب آنے والے برسوں میں اپائنٹمنٹ سسٹم پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اگر ابھی سے شفاف اور مؤثر نظام وضع نہ کیا گیا تو مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

لہٰذا موجودہ حالات میں دو اقدامات فوری طور پر مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اپائنٹمنٹس کے اجراء کا وقت اور دن عوامی سطح پر واضح طور پر اعلان کیا جائے، اور دوسرا یہ کہ BLS کی ویب سائٹ اور اپائنٹمنٹ سسٹم کو اسپین اور پاکستان دونوں ممالک سے قابلِ رسائی بنایا جائے تاکہ درخواست دہندگان کو مساوی مواقع میسر آ سکیں۔

عوام کو بھی چاہیے کہ وہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں، غیر ضروری طور پر ایجنٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور صرف سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔ ہمیں امید ہے کہ جاری مشاورت اور رابطوں کے نتیجے میں جلد مثبت پیش رفت سامنے آئے گی اور اسپین ویزا اپائنٹمنٹ سسٹم کو مزید شفاف، منصفانہ اور عوام دوست بنانے کی جانب عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے