کاتالونیا میں “شیر کی دھاڑ” پوپ لیون چہاردہم کے دورہ پر سرسری نظر
Screenshot
علیحدگی پسندوں، فری میسنز اور پاپولسٹ عناصر نے “میں تمہارا انتظار نہیں کرتا” کے نعرے کے تحت پوپ لیون چہاردہم کے دورۂ بارسلونا کو ناکام بنانے کی کوشش کی، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ بارسلونا کے عوام نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر ان کا استقبال کیا اور تقریبات میں بھرپور شرکت کی۔
بغیر کسی شور شرابے کے مگر واضح قیادت کے ساتھ، پوپ نے کاتالونیا میں ایسا اثر چھوڑا جو مقامی، لسانی، سماجی اور سیاسی تقسیم سے بالاتر تھا۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں ہسپانوی اور کاتالان دونوں زبانیں استعمال کیں، بچوں کو دعائیں دیں، لوگوں سے مصافحہ کیا اور سماجی تنظیموں، مذہبی برادریوں، قیدیوں اور متاثرین سے ملاقاتیں کیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ کاتالونیا ان کے دورے کا بائیکاٹ کرے گا، وہ غلط ثابت ہوئے۔
پوپ لیون چہاردہم نہ صرف ایک روحانی رہنما ہیں بلکہ ایک ریاستی سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے “لیون” نام اختیار کر کے اپنے پیش رو پوپ لیون سیزدہم کی روایت کی طرف اشارہ کیا، جنہوں نے اپنے دور میں سماجی انصاف پر بڑی بحث چھیڑی تھی۔ موجودہ پوپ کے بیانات بھی سماجی، سیاسی اور ٹیکنالوجی کے مسائل پر واضح مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انسان کو مرکزیت حاصل ہونی چاہیے۔
ان کی علمی، فکری اور بین الاقوامی شخصیت اس دورے میں نمایاں رہی، جس میں ہسپانوی شاہی خاندان اور حکومتی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ بعض سیاستدانوں کا اس نوعیت کی مذہبی تقریبات میں شامل ہونا غیر معمولی قرار دیا گیا۔
پوپ نے اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے کاتالونیا کے لیے ایک جامع اور متحد معاشرے پر زور دیا۔ انہوں نے امن، ہم آہنگی، اتحاد اور یکجہتی کو معاشرتی اور سیاسی تعلقات کی بنیاد قرار دیا۔
مونتسیرات کے دورے یا سڑکوں پر علیحدگی پسند پرچموں کے ذریعے اس دورے کو متنازع بنانے کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔ ہزاروں افراد نے مونتسیرات کی خانقاہ میں پوپ کے ساتھ دعائیہ اجتماع میں شرکت کی۔
کاتالونیا کو ہمیشہ “عقل و دانش” کی سرزمین سمجھا جاتا ہے، جہاں عوام عموماً سیاستدانوں سے زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ خطہ مہمان نوازی اور باہمی ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے، اگرچہ بعض اوقات شدت پسند عناصر کشیدگی پیدا کرتے رہے ہیں۔
یہ دورہ کئی تضادات کو بھی سامنے لایا۔ ایک طرف پوپ کے پیغامات گونج رہے تھے، تو دوسری جانب شہر میں ٹرین سروس کی بندش اور دن دہاڑے ایک قتل جیسے واقعات نے مسائل کی نشاندہی بھی کی۔