“میرے پاس کچھ نہیں تھا، جو کچھ بھی ہے وہ فٹبال کھیل کر خود کمایا ہے” لامین یامال

Screenshot

Screenshot

لامین یامال نے اخبار El País کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے پاس شروع میں کچھ نہیں تھا، اور آج ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ انہوں نے فٹبال کھیل کر خود حاصل کیا ہے۔

یہ انٹرویو جوآن ایریگویین اور دیود الواریز نے لیا، جس میں نوجوان اسٹار نے اپنی زندگی، والدین کی قربانیوں اور اپنے فٹبال کے سفر پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ اور والد نے ان کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ انہیں کبھی پورا واپس نہیں کر سکتے۔

یامال نے بتایا کہ ان کا پہلا ورلڈ کپ یاد 2014 کا ہے، جب وہ اپنے والدہ کے ساتھ کولمبیا اور یوروگوئے کا میچ دیکھ رہے تھے۔ اب وہی لمحے وہ خود ورلڈ کپ کھیلتے ہوئے جی رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر کے بارے میں کہا کہ وہ ابھی بہت کچھ سیکھ رہے ہیں اور ان کے مطابق ان کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا: “میرے پاس ابھی بہت فٹبال باقی ہے، میں ابھی صرف 18 سال کا ہوں۔”

یامال نے فٹبال کے انداز پر بات کرتے ہوئے “اسٹریٹ فٹبال” کو پسندیدہ قرار دیا اور کہا کہ انہیں ایسے کھلاڑی پسند ہیں جیسے اسکو، نیمار اور وینیسیئس۔ انہوں نے لیونل میسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ وہ سینٹر میں کھیلنے کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔

ورلڈ کپ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا غلط ہے اور اصل فیصلہ ٹورنامنٹ کے آخر میں ہی ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے