کاتالونیا میں غیر معمولی ریگولرائزیشن کے لیے درخواستوں کی تعداد 150,000 سے تجاوز کر جائے گی۔کارلوس پریتو
Screenshot
حکومت کا اندازہ ہے کہ کاتالونیا میں غیر معمولی ریگولرائزیشن (قانونی حیثیت دینے) کے لیے درخواستوں کی تعداد 150,000 سے تجاوز کر جائے گی۔ حکومتی نمائندے نے ان سیاسی رہنماؤں پر تنقید کی ہے جو امیگریشن کو جرائم سے جوڑتے ہوئے “غیر انسانی زبان” استعمال کرتے ہیں۔
ریگولرائزیشن کے اس عمل کی آخری تاریخ ختم ہونے میں صرف دس دن باقی ہیں۔ کاتالونیا میں حکومت کے نمائندے کارلوس پریتو نے کہا ہے کہ یہاں درخواستوں کی تعداد ابتدائی اندازے یعنی 150,000 سے زیادہ ہو جائے گی۔ تاہم درست تعداد 30 جون کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ گزشتہ ہفتے جاری اعداد و شمار کے مطابق پورے اسپین میں درخواستیں پہلے ہی 900,000 سے تجاوز کر چکی ہیں۔
پریتو نے امیگریشن دفاتر میں کام تیز کرنے کے لیے کیے گئے ہنگامی منصوبے کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریگولرائزیشن “ہزاروں افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرے گی”۔ انہوں نے ان سیاسی بیانات پر تنقید کی جو امیگریشن کو جرائم سے جوڑتے ہیں اور انہیں “غیر انسانی زبان” قرار دیا۔
اپریل سے کاتالونیا میں ایک ہنگامی منصوبہ جاری ہے جس کے تحت امیگریشن دفاتر میں عارضی عملہ تعینات کیا گیا ہے تاکہ کام کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 42,545 کیسز میں سے:
- 87.2٪ درخواستیں رہائشی بنیاد (arraigo) پر ہیں
- 11٪ نابالغوں سے متعلق ہیں
- 1.8٪ پناہ (اسائلم) کے کیسز ہیں
درخواست دہندگان میں 60.1٪ مرد اور 39.9٪ خواتین ہیں۔ عمر کے لحاظ سے 50.9٪ افراد 30 سے 49 سال کے درمیان ہیں اور 88.5٪ معاشی طور پر فعال عمر کے ہیں۔
پریتو نے کہا کہ زیادہ تر درخواست دہندگان ابھی دفاتر تک نہیں پہنچے کیونکہ ابتدائی مراحل میں بلدیاتی اداروں سے دستاویزات حاصل کرنا اور ڈاک کے ذریعے درخواستیں بھیجنا شامل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امیگریشن دفاتر پر ابھی بھی شدید دباؤ ہے، تاہم ل’Hospitalet جیسے شہروں میں جلد خودکار اپائنٹمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ عمل تیز ہو سکے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو اسے پورے اسپین میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد “منظم، قانونی اور محفوظ امیگریشن” کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر تارکین وطن کام کرنے اور معاشرے میں حصہ ڈالنے آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ غیر رسمی معیشت سے نکل کر باقاعدہ معیشت کا حصہ بنیں۔
پریتو نے ایک مذہبی رہنما کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “انسانی وقار سرحد عبور کرنے سے کم نہیں ہوتا۔” انہوں نے اس بیان کو بنیاد بنا کر بادالونا کے میئر پر تنقید کی، جنہوں نے ایک چوری کے واقعے کو امیگریشن سے جوڑا تھا۔
ریگولرائزیشن کا یہ عمل 30 جون تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد بھی حکومت امیگریشن دفاتر میں اضافی اقدامات جاری رکھے گی کیونکہ درخواستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اسے ایک تاریخی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات جمع کروانے اور اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد بھی بہت سے افراد کو پولیس اسٹیشن سے TIE (غیر ملکی شناختی کارڈ) حاصل کرنے کے لیے وقت لینا مشکل ہو رہا ہے، جو اس عمل کا آخری اور ضروری مرحلہ ہے۔