Screenshot
میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے ایک ہی سال میں بار بار بیماری یا عارضی کام سے معذوری کی چھٹی لینے والے ملازمین کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ایسے ملازمین کے کیسز کا خودکار اور حقیقی وقت میں جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق ریاستی آبزرویٹری برائے عارضی کام سے معذوری (Observatorio Estatal de la Incapacidad Temporal) اس عمل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ ادارہ فروری 2026 میں قائم کیا گیا تھا اور جدید خودکار نظام کے ذریعے بیماری کی چھٹیوں کے معاملات کا تجزیہ کرے گا۔
نئے طریقہ کار کے تحت Instituto Nacional de la Seguridad Social (INSS) ان ملازمین کی نگرانی کرے گا جو ایک ہی سال میں دوسری یا اس سے زیادہ مرتبہ عارضی کام سے معذوری کی چھٹی حاصل کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ممکنہ فراڈ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ایسے کیسز کا بروقت جائزہ لینا ہے جن میں بیماری کی چھٹی بار بار درکار ہو رہی ہو۔
ایسے ملازمین کو پہلے کے مقابلے میں جلد میڈیکل ٹریبونل(Mutua) کے معائنے کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ اگر ایک ہی بیماری کی وجہ سے بار بار چھٹی لی جا رہی ہو اور ملازم کی کام کرنے کی صلاحیت بحال نہ ہوئی ہو تو مستقل معذوری دینے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر طبی بنیاد پر مزید چھٹی ضروری نہ سمجھی جائے تو اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔
حکام خاص طور پر ایک سے چار دن کی مختصر بیماری کی چھٹیوں پر بھی توجہ دیں گے۔
رپورٹس کے مطابق اسپین میں کام سے غیر حاضری کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ INSS کے مطابق گزشتہ سال عارضی بیماری کی چھٹیوں کی وجہ سے ہسپانوی معیشت پر مجموعی لاگت 59.109 ارب یورو رہی، جس میں سروسز کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
