Screenshot
ہسپانوی پارلیمنٹ (کانگریس) جمعرات کو اس قانون کی منظوری دینے جا رہی ہے جس کے تحت ان افراد کو ہسپانوی شہریت دینے کا راستہ ہموار کیا جائے گا جو مغربی صحارا میں اس وقت پیدا ہوئے تھے جب یہ علاقہ اسپین کی نوآبادی اور اس کا ایک صوبہ تھا۔
اس قانون کو حکومت کی حمایت کرنے والے پارلیمانی اتحاد کے ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ حزب اختلاف کی جماعت پاپولر پارٹی (PP) نے ووٹنگ میں غیر حاضر رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ صرف انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس نے قانون کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
پارلیمانی بحث کے دوران تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو ’’تاریخی ناانصافی کے ازالے‘‘ سے تعبیر کیا۔ اجلاس میں صحراوی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والی تنظیموں اور پولیساریو فرنٹ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ پولیساریو فرنٹ کو اقوام متحدہ کے سامنے صحراوی عوام کی نمائندہ تنظیم سمجھا جاتا ہے۔
اس قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے میں بائیں بازو کے اتحاد سومار کا اہم کردار ہے۔ سومار کی جانب سے اسپین کی متحدہ بائیں بازو (IU) کے ترجمان اینریکے سانتیاگو اور صحراوی نژاد رکن پارلیمنٹ تیش صیدی نے خطاب کیا۔
اینریکے سانتیاگو نے کہا کہ یہ قانون صحراوی عوام کے ساتھ تاریخی ناانصافی کے ازالے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے دفاع کا واضح پیغام ہے۔
تیش صیدی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی منظوری کے ذریعے ’’ان صحراوی باشندوں کو ہسپانوی شناختی کارڈ واپس ملے گا جن کے پاس کبھی یہ شناخت موجود تھی اور پھر ریاست نے ان سے یہ حق چھین لیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مغربی صحارا محض ایک علاقہ نہیں تھا بلکہ اسپین کا 53واں صوبہ تھا، جسے بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ ان کے بقول نئے قانون کے ذریعے صحراوی عوام کے حقوق کو دوسروں کے برابر کیا جائے گا اور ایک تاریخی ناانصافی کا ازالہ ہوگا۔
تیش صیدی نے مزید کہا کہ اس قانون کی حمایت دراصل صحراوی عوام کی حمایت ہے، جبکہ اس سے غیر حاضر رہنا یا مخالفت کرنا مراکش کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگا۔
