Screenshot
نکاراگوا کے عظیم شاعر اور جدیدیت پسند ادیب روبن داریو کو عموماً ان کی شاعری، خصوصاً Prosas profanas اور Cantos de vida y esperanza کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، تاہم ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو صحافت بھی تھا۔ نئی تنقیدی تدوین شدہ کتاب Tierras solares میں روبن داریو کے اسی صحافتی کردار کو نمایاں کیا گیا ہے، جس میں 1903ء کے اسپین کے سفر کے دوران لکھی گئی ان کی رپورٹس اور سفری تحریروں کو دوبارہ سامنے لایا گیا ہے۔
روبن داریو 1903ء کے اواخر میں پیرس سے اسپین پہنچے۔ اس وقت وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ایک مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ وہ دھوپ، آرام اور صحت کی بحالی کے لیے اسپین آئے، لیکن یہاں انہیں ایک ایسا ملک ملا جو بعد میں ان کے لیے گہری ادبی اور روحانی تحریک کا ذریعہ بن گیا۔
ان کی سفری تحریروں میں صحافی کی نظر اور شاعر کی زبان دونوں نمایاں ہیں۔ بارسلونا پہنچ کر انہوں نے شہر کی روشن فضا کو سراہتے ہوئے لکھا کہ وہ دھوپ اور صحت کی تلاش میں آئے تھے اور یہاں انہیں ’’خوشگوار اور صحت بخش اسپینی سورج‘‘ اور ایسا آسمان ملا جس میں پیرس کی اداسیاں نہیں تھیں۔ تاہم انہوں نے صرف سیاح کی طرح شہر کی سیر نہیں کی بلکہ سیاسی اور سماجی حالات پر بھی گہری نظر ڈالی۔
اندلس کا سفر ان کی تحریروں کا اہم حصہ ہے۔ ملاگا، غرناطہ، اشبیلیہ اور قرطبہ کے مناظر، تاریخ، ثقافت، گلیاں، عمارتیں، روایات اور لوگوں کے رہن سہن کو انہوں نے انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا۔ غرناطہ میں الحمرا اور جنرلائف نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا، جبکہ اشبیلیہ میں وہ محض تہواروں کے ظاہری حسن کے بجائے شہر کی تاریخی روح سے متاثر ہوئے۔
نئی تنقیدی تدوین کے مطابق Tierras solares محض سفری مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ روبن داریو کے اندرونی بحران، روحانی تجدید اور ادبی پختگی کی عکاسی بھی ہے۔ ایڈیٹرز فرانسسکو ایستیویز اور خوان پاسکوال گائے کے مطابق داریو نے اسپین کو ایک سیاح کی نظر سے نہیں بلکہ ایک صحافی اور شاعر کی نگاہ سے دیکھا۔
ان تحریروں میں عمارتوں، ریلوے، ہوٹلوں، بازاروں، اخبارات، کھانوں، تہواروں اور عام لوگوں تک ہر چیز کا مشاہدہ ملتا ہے۔ یوں روبن داریو نے ثابت کیا کہ صحافت اور ادب ایک دوسرے سے الگ نہیں؛ ایک بہترین صحافی اپنی مشاہداتی نظر سے صحافت کو بھی اعلیٰ ادب میں تبدیل کر سکتا ہے۔
