Screenshot
اسپین، پرتگال اور مراکش مشترکہ طور پر 2030ء کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے، تاہم ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچ یعنی فائنل کی میزبانی اب بھی واضح نہیں ہے۔ حالیہ صورتحال کے بعد اس معاملے نے شدید بحث کو جنم دے دیا ہے اور کئی حلقے ہسپانوی فٹبال فیڈریشن (RFEF) سے اس حوالے سے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسپین کے سینتیاگو برنابیو اسٹیڈیم کو ایک عرصے تک ورلڈ کپ فائنل کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا رہا، لیکن فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کی مراکش کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ فائنل مراکش منتقل کیا جا سکتا ہے۔
مراکش پہلے ہی اس بات کا پُراعتماد اظہار کر رہا ہے کہ 2030ء ورلڈ کپ کا فائنل کاسابلانکا میں زیرِ تعمیر نئے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ اس صورتحال نے اسپین میں تشویش پیدا کر دی ہے اور یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر فیفا فائنل مراکش کو دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو کیا اسپین کو ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی سے دستبردار ہو جانا چاہیے؟
گزشتہ چند ماہ کے دوران فائنل کے مقام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تقریباً طے سمجھا جا رہا تھا کہ فائنل اسپین کے برنابیو اسٹیڈیم میں ہوگا، تاہم اب مراکش کی جانب سے مسلسل سامنے آنے والے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جمعرات کو مراکش فٹبال فیڈریشن کے صدر فوزی لقجع نے بھی تقریباً حتمی انداز میں کہا کہ 2030ء ورلڈ کپ کا فائنل کاسابلانکا میں ہوگا۔ ملک میں انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا کہ کاسابلانکا کے علاقے میں واقع بنسلیمان صوبہ کو 2030ء ورلڈ کپ کے فائنل کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوگا، جہاں نیا اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اسپین کی فٹبال فیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ اگر فائنل مراکش میں بھی منعقد ہوتا ہے تو اسپین 2030ء ورلڈ کپ کی میزبانی سے دستبردار نہیں ہوگا۔ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان میزبانی کے حوالے سے باقاعدہ معاہدے پہلے ہی طے اور دستخط شدہ ہیں۔
