Screenshot
امریکا کے میساچوسٹس جنرل برِگھم کے محققین کی سربراہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ذیابیطس کے بعض مریضوں میں پیشاب کے ذریعے پروٹین کی موجودگی جانچنے سے یہ فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ گردوں کے تحفظ کے لیے GLP-1 یا SGLT2 ادویات میں سے کون سا علاج زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق GLP-1 agonists اور SGLT2 inhibitors استعمال کرنے والے ایسے مریض جن کے علاج سے پہلے پیشاب میں پروٹین (پروٹین یوریا) موجود تھی، ان میں گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ کم دیکھا گیا۔ پروٹین یوریا کو گردوں کو پہنچنے والے نقصان کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، جن مریضوں کے پیشاب میں پروٹین موجود نہیں تھی، ان میں ان دونوں جدید ادویات کے گردوں کے حوالے سے نمایاں فائدے کے شواہد کم ملے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ذیابیطس کی نسبتاً پرانی دوا سلفونائل یوریا استعمال کرنے والے ایسے مریض جن میں ابتدائی طور پر پروٹین یوریا نہیں تھی، ان کی گردوں کی کارکردگی میں زیادہ تیزی سے خرابی کا تعلق اس دوا کے استعمال سے دیکھا گیا۔
محققین نے امریکا بھر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے 75,455 مریضوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا، جن میں 13,872 افراد کو پروٹین یوریا تھی۔ مریضوں کا پانچ سال تک فالو اَپ کیا گیا اور مختلف ذیابیطس کی ادویات کے استعمال کے بعد گردوں کی بیماری کے خطرے کا موازنہ کیا گیا۔ تمام مریض درمیانے درجے کے قلبی خطرے کے حامل تھے اور بنیادی طور پر میٹفارمن استعمال کر رہے تھے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر ٹرچن کے مطابق ذیابیطس کا علاج ہر مریض کی صورتحال کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشاب کا ایک سادہ ٹیسٹ ڈاکٹر کو علاج کے انتخاب میں مزید مدد فراہم کرسکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے BMJ میں شائع ہوئے ہیں۔
