اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیتیزیا نے سیوتا (Ceuta) کے دورے کے دوران سیدی امباریک کے مسلم قبرستان میں حاضری دی اور ان تارکینِ وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو 30 اور 31 جولائی کو ہونے والی اجتماعی آمد کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ شاہی جوڑے کا یہ دورہ شہر میں پیدا ہونے والے مہاجرت کے بحران کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد ہوا ہے۔
اخبار ’ال پائیس‘ کے مطابق، شاہی جوڑا منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے شہر کی مرکزی شاہراہ گران ویا پہنچا، جہاں بڑی تعداد میں مقامی شہریوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس دورے کا مقصد شاہی خاندان کی جانب سے سبوتہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرنا تھا۔
بعد ازاں بادشاہ اور ملکہ نے سٹی ہال میں خودمختار شہر سیوتا کے صدر خوان خیسوس ویواس اور مرکزی حکومت کے وزیر اینخل ویکتور تورّیس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران شہر کی موجودہ صورتِ حال اور مہاجرت کے بحران پر گفتگو ہوئی۔
سیوتا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے شاہی جوڑے کے سامنے شہر کی سنگین صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اپنی حالیہ تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ان کے بقول، ’’سیوتا ایک پریشر ککر بن چکا ہے، جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔‘‘
شام کے وقت بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیتیزیا نے ویسینتے الیخاندریے اسکول کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ سیدی امباریک کے مسلم قبرستان پہنچے۔
قبرستان میں ان 90 افراد کو دفن کیا گیا ہے جو جولائی کے آخری دنوں میں ہونے والی اجتماعی آمد کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ قبروں پر ناموں کے بجائے صرف نمبر درج ہیں۔
شاہی جوڑے کا استقبال مسلم، عیسائی، یہودی اور ہندو برادریوں کے نمائندوں نے کیا، جو سیوتا میں مذہبی ہم آہنگی کی علامت ہے۔
بادشاہ اور ملکہ منگل کی رات سیوتا میں قیام کریں گے اور بدھ کو ملییا کا دورہ کریں گے۔ دونوں شہروں میں کسی سربراہِ مملکت کا آخری دورہ 2007 میں ہوا تھا، جب سابق بادشاہ خوان کارلوس اول اور ملکہ صوفیہ وہاں گئے تھے۔
